امریکہ میں مسلمانوں کی ایک فلاحی تنظیم علوی فاؤنڈیشن پر ایرانی حکومت کے ساتھ روابط کا الزام عائد کیا گیاہے، اُس نے کہا ہے کہ وہ اُس کی املاک کو ضبط کرنے کے لیے امریکی حکومت کی کوششوں کے خلاف قانونی جنگ لڑے گی۔ان املاک میں نیویارک میں ایک بلندوبالا عمارت اور کئى مسجدیں شامل ہیں۔
وفاقی وکلائے استغاثہ نے جمعرات کے روز ایک ایسا دیوانی مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں علوی فاؤنڈیشن کی آٹھ املاک کو ضبط کر لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
علوی فاؤنڈیشن کے ایک وکیل نے کہا ہے کہ فاؤنڈیشن کے بارے میں جب سے چھان بین شروع ہوئى ہے، وہ حکومت کے ساتھ پورا تعاون کرتی رہی ہے اور اس مقدمے سے اُسے مایوسی ہوئى ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ فاؤنڈیشن حکومت کے دعووں کے خلاف عدالتی کارروائى کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اُسے عدالت میں کامیابی کی توقع ہے۔
وکلائے استغاثہ علوی فاؤنڈیشن پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اُس نے ایک دکھاوے کی کمپنی ”آسا کارپوریشن“ کے ذریعےلاکھوں ڈالر ایران کے سرکاری ملکیت کے ”بینک ملّی“ کو منتقل کیے ہیں۔
امریکہ کا محکمہٴ خزانہ بینک ملّی پر ایران کے جوہری پروگرام کی مدد کرنے کا الزام عائد کرتا ہے اور اُس نے امریکی شہریوں پر پابندی عائد کردی ہے کہ وہ اُس کے ساتھ کاروبار نہ کریں۔
امریکہ کے اٹارنی جنرل کے دفتر کی ایک ترجمان خاتون نے یہ واضح کیا ہے کہ زیرِ بحث املاک میں مقیم لوگوں یا کرایہ داروں کے خلاف کوئى الزام عائد نہیں کیا گیا ہے اور نہ کوئى کارروائى کی گئى ہے۔
لیکن مسلمانوں کے حقوق سے متعلق تنظیم کونسل برائے امریکی اسلامی تعلقات نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے کہ حکومت کے مسجدیں ضبط کرنے کے اقدام سے دنیا بھر میں مسلمانوں کو ایک منفی پیغام مل سکتا ہے اور اس سے مذہبی آزادی پر بُرا اثر پڑ سکتا ہے۔
تنظیم نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ خاص طور پر ایک ایسے بُرے وقت میں کیا ہے جب امریکی مسلمان فورٹ ہُڈ میں پچھلے ہفتے کے ایک مسلمان افسر کی طرف سے کیے جانے والے قتلِ عام پر ممکنہ ردّ عمل کے بارے میں پریشان ہیں۔

