اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو نے امریکی فوج اور ٹھیکے داروں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے عراق میں قدیم بابل کے تاریخی آثار کو نقصان پہنچایا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم یا یونیسکو نے کہا ہے کہ جن فوجی دستوں نے 2003ء میں عراق پر فوج کشی کے بعد اس علاقے پر قبضہ کیا تھا، انہوں نے آثارِ قدیمہ کو بہت کافی نقصان پہنچایا ہے۔

یونیسکو کی ایک رپورٹ میں فوجیوں پرالزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ٹیلوں کو بُلڈوروں سے ہموار کردیا، قدیم مقدّس راستوں پر بھاری مشینیں چلائیں اور چار ہزار سال پُرانے آثارِ قدیمہ کے مقامات پر خندقیں کھودیں۔

بابل، جو آج کے بغداد سے 90 کلو میٹر جنوب میں واقع ہے، خطے کے ابتدائى دَور کے دو مشہور بادشاہوں کا دارالحکومت تھا۔ انہی میں سے ایک بادشاہ بخت نصر نے بابل کے وہ معلق باغات تعمیر کرائے تھے، جو بعد میں قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہوئے۔

امریکی فوج نے فوری طور پر اس رپورٹ پر کوئى تبصرہ نہیں کیا۔

اسی دوران ہالینڈ کے حکام نےبخت نصر کے دور کے ایک قیمتی پتھر سمیت 69 مسروقہ قدیم اشیا عراق کو واپس کی ہیں۔

ہالینڈ کی وزارتِ ثقافت نے کہا ہے کہ یہ اشیا جمعرات کے روز ہالینڈ میں عراق کے سفیر سیاماند بنّا کے حوالے کردی گئیں۔

اس سے پہلے ہالینڈ کے سوداگروں نے یہ معلو م ہونے پر کہ ان اشیا کو عراق میں لُوٹا گیا گیا تھا، تمام قدیم اشیا پولیس کے حوالے کردی تھیں۔ امریکہ کے کسٹم کے حکام اور بین الاقوامی پولیس، انٹر پول نے ہالینڈ کے عہدے داروں کو چوکنّا کردیا تھا کہ عراق سے چُرائےٴ ہوئے آثارِ قدیمہ کو ہالینڈ میں فروخت کیا جارہا ہے۔

امریکی فوج نے بابل کے قدیم آثار کے مقامات پر 2003ء میں قبضہ کرلیا تھا۔ لیکن 2004ء میں اُس نے ان مقامات کو واپس عراقی حکومت کے حوالے کر دیا تھا۔

یونیسکو نے اپنی رپورٹ میں نشان دہی کی ہے کہ بابل کو لُوٹنے کی کارروائیاں نہ تو امریکی فوج کی آمد کے ساتھ شروع ہوئیں اور نہ ہی فوج کے ہٹ جانے کے بعد بند ہوئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس شہر کے قیمتی آثار کو لُوٹنے کی کارروائیاں 19 ویں صدی میں اُس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئى تھیں، جب یورپ کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ فروخت کرنے اور پیرس اور برلن کے عجائب گھروں میں نمائش کے لیے بابل کے سب سے مشہور آثار اور نوادر کو اس شہر سے لے گئے تھے۔

بابل کو 1935ء میں آثارِ قدیمہ کا اہم مقام قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد وسیع پیمانے پر کھدائى اور چھان بین کا کام ہوا ہے۔ لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس مقام پر بہت سے آثار ابھی تک دریافت نہیں ہوئے ہیں۔