صدر آصف علی زرداری نے انسداد دہشت گردی کے قانون میں بعض تبدیلیوں کی منظوری دینے کے بعد اس کا دائرہ کار صوبہ سرحد کے زیرانتظام قبائلی علاقوں بشمول مالاکنڈ ڈویژن تک بڑھا دیا ہے۔ فوجی اور سول حکام سوات میں فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے سینکڑوں مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف مالاکنڈ ڈویژن میں رائج قوانین کے تحت مقدمات چلانے سے گریزاں تھے کیوں کہ اُن کے خیال میں ان قوانین میں پائے جانے والے سقم کا فائدہ اُٹھا کر اصل مجرم رہا ہو سکتے تھے۔
انھی خدشات کو دور کرنے کے لیے پاکستانی صدر نے علاقے میں انسداد دہشت گردی کا قانون نافذ کیا ہے۔ اس ترمیم شدہ قانون کے تحت شدت پسندوں کی حمایت اور تشہیر کرنے والے کسی بھی شخص یا تنظیم بشمول ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے خلاف خصوصی عدالتوں میں مقدمات قائم کیے جاسکیں گے۔ اس بات کا انکشاف صوبہ سرحد کے وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ”چاہے وہ حکومت کی ایجنسیوں سے تعلق رکھتے ہوں، چاہے وہ عوام یا میڈیا سے تعلق رکھتے ہوں۔ جو بھی اُن کی سوچ و فکر کی تشہیرکرے گا وہ اسی زمرے میں آئے گا اور اُس کے خلاف عدالتی کارروائی ہوگی“۔
میاں افتخار حسین نے اس قانون میں کی جانے والی نئی ترامیم کے بارے میں بتایا کہ اب مجرم سے تفتیش کے لیے ریمانڈ کی مدت 90 دن تک بڑھا دی گئی ہے جب کہ اُن کے بقول مجرم اگر ضلعی پولیس افسر کے سامنے اقبال جرم کر لے گا تو اُس کے بیان کو قانونی ثبوت کے طور پر مانا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ اس سے قبل سرکاری وکلاء کو یہ ثابت کرنا ہوتا تھا کہ گرفتار ملزمان دہشت گرد ہیں لیکن اب انسداد دہشت گردی کے نئے قانون کے تحت زیرحراست ملزمان کو خود ہی اپنی بے گناہی کو ثابت کرنا ہوگا۔
سابق وزیر قانون خالد رانجھا کا اس بارے میں کہنا ہے کہ قوانین چاہے کتنے ہی سخت کیوں نہ بنا لیے جائیں جب تک اُن پر عمل درآمد کو یقینی نہیں بنایا جاتا، مقاصد کا حصول ممکن نہیں۔ خالد رانجھا نے کہا کہ قوانین پر عمل درآمد کے لیے تفتیش کے درست اور جدید طریقوں کے نہ ہونے اور شواہد کی عدم دستیابی کے باعث دہشت گردی کے شبے میں گرفتار افراد کو عدالتیں بھی شک کا فائدہ دیتی ہیں۔

