بالی وڈ میں سیفی نا کے نام سے مشہور جوڑی سیف علی خان اور کرینہ کپور کی نئی فلم قربان 20 نومبر جمعہ کے دن پورے بھارت میں ریلیز ہورہی ہے۔     عالمی دہشت گردی پر مبنی دھرما پروڈکشنس بینر کی فلم قربان کو یو ٹی وی موشن پکچرز عالمی سطح پر 1700 سے زائد سنیما گھروں میں ریلیز کررہی ہے۔

اگرچہ بھارت میں فلم قربان ریلیز سے قبل ہی تنازعوں میں گِھری رہی  پر اِس سے فلم کے  تقسیم کار کے حوصلے بالکل پست نہیں ہوئے ہیں۔   محض بھارت میں فلم کو 1500 سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کرنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔     جب کہ 24 دیگر ممالک کے 200 سے زائد سنیما گھروں میں بھی قربان فلم کو جمعہ کے روز ہی ریلیز کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ فلمساز کرن جوہر کی پروڈیوس کی گئی فلم قربان کو بنانے میں 50 کروڑ روپیے خرچ کیے گئے ہیں۔     یو ٹی وی کے سی ای او سدھارتھ رائے کے مطابق قربان بالی وڈ کی پہلی فلم ہے جسے تیرہ سو فیزیکل اور آٹھ سو ڈی جیٹل پرنٹس کے ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر ریلیز کیا جارہا ہے۔    

مگر ریلیز سے قبل ہی ممبئی شہر میں فلم جہاں ایک طرف اپنے بولڈ مناظر کی وجہ سے سیاسی جماعت شیوسینا کے غصے اور تنقید کانشانہ بنی تو دوسری طرف بمبئی ہائی کورٹ میں عوامی عرضداشت  کے ذریعےفلم کے  شکرن اللہ اور علی مولا نغموں کی عکس بندی پر اعتراض کرتے ہوئے فلم کی ریلیز پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

بمبئی ہائی کورٹ نے تو محمد علی نامی شخص کے قربان فلم کی ریلیز پر پابندی کے  مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے فلمساز کرن جوہر اور ہدایت کار رینسل ڈی سلوا کو  اظہارِ وجوہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔  تاہم شیوسینا نے دھمکی دی ہے کہ اگر فلم سے جنسی مناظرخارج نہیں کیے گئے تو پارٹی سڑکوں پر احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔  

ابھی پچھلے ہفتے ہی شیوسینا کے اراکین نے فلم قربان کے پوسٹر پر کرینہ کپور کو ساڑی سے ڈھانک کر یہ اعلان کیا تھا کہ وہ بالی وڈ کی بےبو ک و ساڑی بطور تحفہ پیش کریں گے۔     شیوسینا کی دھمکی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جمعرات کے روز  شہر میں یو ٹی وی کے دفتر اور سنیما گھروں کے اطراف پولیس کا کڑا حفاظتی بندوبست کیا گیا ہے۔

فلم قربان کے ہدایت کار رینسل نے اردو وی او اے ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اتفاق ہے کہ دہشت گردی کے پس منظر میں پنپنے والے جنونی پیار کی کہانی پر بنی اُن کی فلم 26 نومبر ممبئی حملوں کی پہلی برسی سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل ریلیز ہورہی ہے۔