ایک سینیئر امریکی سفارت کار نے کہاہے کہ واشنگٹن شمالی کوریا سے براہ راست مذاکرات صرف اس صورت میں کرے گا اگر وہ جوہری اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنے کے چھ ملکی مذاکرات کے فریم ورک میں ہوں۔
معاون وزیر خارجہ کرٹ کیمپبل نے بدھ کے روز بیجنگ میں یہ تبصرہ تعطل کے شکار مذاکرات پر چینی عہدے داروں سے ملاقات کے بعد کیا۔
کیمپبل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ چین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا چھ فریقی لائحہٴ عمل کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ الگ تھلک ہوجانے والی اسٹالن نواز حکومت کے ساتھ سفارت کاری بہت مشکل کام ہے۔
سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے بھی بدھ کے روز جنوبی کوریا کے دارالحکومت سؤل میں ایک خطاب کے دوران ایسا ہی بیان دیا۔ انھوں نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا کے لیڈر کم جانگ ال بلا شبہ کسی قسم کی کمزوری کا پتا چلانے کے لیے اس سسٹم کو آزمائیں گے اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں گے۔
لیکن سابق صدر بش نے کہا کہ چھ فریقی مذاکرات جزیرہ نما کوریا میں امن لانے کا بہترین طریقہ ہیں۔
کیمپبل نے کہا کہ واشنگٹن اور بیجنگ حالیہ مہینوں میں شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات پر بہت قریبی طور پر کام کرتے رہے ہیں۔
امریکہ، چین، جاپان، روس اور جنوبی کوریا شمالی کوریا کو اقتصادی امداد کے بدلے جوہری ہتھیاروں کا اپنا پروگرام ختم کرنے پر قائل کرنےکے لیے 2003ء سے گفت وشنید کر رہے ہیں۔
شمالی کوریا نے گزشتہ دسمبر کو اس کے بعد چھ ملکی مذاکرات سے علیٰحدگی اختیار کر لی تھی جب بین الاقوامی برادری نے اس پر راکٹ لانچ کرنے پر نکتہ چینی کی تھی۔ اس کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ دراصل دور مار میزائل ٹیکنالوجی کا تجربہ تھا۔
مسٹر کیمپبل نے کہا کہ امریکہ کا اصرار ہےمذاکرات میں شامل دوسرے ملک صرف اس صورت میں مزید مذاکرات کریں گے اگر پیانگ یانگ ان سابقہ معاہدوں پر عمل کر ے جو 2005ء اور 2007ء میں طے پائے تھے۔

