وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان میں اصلاحات کے لیے پارلیمان میں پیش کیے جانے والے ”آغاز حقوق بلوچستان “ پیکج پر صوبے کی تقریباً سب جماعتوں نے تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔
نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ڈاکٹرمالک بلوچ نے اسے ”زبانی جمع خرچ اور ڈرامہ“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ حق حاکمیت کا ہے جس کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ سنجیدہ نظر نہیں آرہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مکمل گوادر پورٹ مانگ رہے ہیں اور وہ کہتے ہیں چیئرمین شپ لے لو، گیس کی مد میں مرکز پر صوبے کے بقایاجات600 ارب روپے ہیں مگر ہمیں صرف 120ارب روپے اور وہ بھی 12سال میں دیے جارہے ہیں ۔
نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے نوابزادہ حرب یار مری نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کی سوچ و فکر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے وہ آج کے دور میں بھی بلوچ روایات اور قومی شناخت کو روپوں میں تولنے کی بات کررہے ہیں۔ نواب اکبر بگٹی اور دوسرے شہیدوں کیلئے ریٹائرڈ جج پر مشتمل کمیشن بنانے کی بات کی گئی ہے مگر دوسری طرف محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اور پاکستانی حکمرانوں کے راستے الگ الگ ہیں ہم پیکج کے لیے نہیں بلکہ آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔
اسی طرح نوابزادہ برہمداغ بگٹی کی جماعت بلوچ ریپبلکن پارٹی نے بھی پیکج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرانے پیکٹ پر نیا لیبل لگادیا گیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا ہے کہ ہم اب مزید دھوکے میں نہیں آئیں گے اور ہماری منزل بڑی واضح ہے۔
مسلم لیگ(ن) کے صوبائی سربراہ سردار یعقوب خان ناصر نے بتایا کہ پیکج میں ایسی خاص چیز نہیں ہے جو صوبے کے عوام کو متاثر کرسکے ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے اصل مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی اعلان سے پہلے تمام فریقین کو اعتماد میں لیا گیا ہے ۔
پشتون قوم پرست جماعت پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے ”آغاز حقوق بلوچستان پیکج“ کے بارے میں کہا کہ دراصل یہ بلوچوں کا پیکج ہے جسے نام بلوچستان کا دیا گیا ہے حکمرانوں نے صوبے میں آباد پشتونوں اور ان کے 75ہزار مربع کلو میٹر علاقے کو مکمل نظر انداز کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی نصف آبادی پشتونوں پر مشتمل ہے جو زندگی کی تمام بنیادی ضرورتوں سے محروم اور پسماندہ ہے مگر پیکج میں ان کا ذکر تک نہیں ہے اور نہ ہی پشتون بلوچ برابری کی بات کی گئی ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل حبیب جالب بلوچ نے بتایا کہ پیکج کے نام پر دراصل ایک مرتبہ پھر بلوچوں کو بے وقوف بنانے کی سازش کی گئی ہے ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ خیرات نہیں بلکہ نیا عمرانی معاہدہ ہے جس کے تحت صوبوں کو حق حاکمیت اور ملکیت کا احساس ہونا چاہئے۔ مسلم لیگ(ق) کے صوبائی جنرل سیکرٹری ارباب ہاشم کاسی نے بلوچستان پیکج کو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ صوبے میں بداعتمادی کی فضا کو ختم کرنے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں۔
تاہم دوسری جانب حکمران پیپلز پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر اوروزیرصادق عمرانی نے بلوچستان پیکج کو ایک اہم سنگ میل قراردیا اور کہا کہ اس سے 62سالہ محرومیوں کا ازالہ ہوجائے گا جس سے صوبے کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی حالات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھاکہ مرکزی حکومت صوبے کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ اور مخلص ہے اور جلد ہی مزیدا قدامات کا بھی اعلان کیا جائے گا۔
بلوچ نیشنل فرنٹ کے رہنما صادق رئیسانی نے کہا کہ صوبے میں فوجی آپریشن اب بھی جاری ہے اور سوئی ڈیرہ بگٹی سے فوج کو نکالنے اور وہاں نیم فوجی دستوں کی تعیناتی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ہماری جدوجہد پیکج کیلئے نہیں ہے بلکہ بلوچوں کی خودمختاری کے لیے ہے جو ہر صورت جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ منگل کے روز پارلیمان کے مشترکہ اجلاس بلوچستان کے لیے ”آغاز حقوق بلوچستان “کے نام سے آئینی، انتظامی، سیاسی اور معاشی اصلاحات پر مشتمل سفارشات کا ایک خصوصی پیکج پیش کیا گیا۔ اس کے تحت جیلوں میں بند بلوچ قیدیوں کی رہائی، جلاوطن بلوچ قیاد ت کی وطن واپسی، لاپتہ افراد کی نشاندہی، مقتول بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن کی تشکیل کے ساتھ ساتھ سوئی اور کوہلو سے فوج کے مرحلہ وار انخلاء کے علاوہ صوبے میں نئی فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر روکنے کی تجاویز شامل ہیں۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اس موقع پر کہا تھاکہ ان سفارشات کا تعلق سیاسی اور اقتصادی ترقی سے ہے۔ اُنھوں نے بلوچستان کی تما م سیاسی قوتوں کو دعوت دی کہ وہ اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے اداروں اور جمہوری نظام کو مضبوط اور مستحکم بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں ۔


