اتوار کی صُبح پشاورسے تقربیاََ 16کلو میٹر دور متنی کے علاقے میں مویشیوں کی ایک منڈی کے قریب ہونے والے خودکش بم دھماکے کم از کم 13افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
مقامی تھانے کے ایس ایچ او ریاض خان نے وی او اے کو بتایا ہے کہ حملے کا نشانہ مقامی ناظم عبدالمالک تھے جو مرنے والوں میں شامل ہیں۔ انھوں نےکہاکہ اس واقعہ میں35 سے زائد افرادزخمی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال اس علاقے میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کی حوصلہ شکنی کے لیے مقامی آبادی کو متحرک کر کےعسکریت پسندوں کے خلاف لشکر بنانے میں عبدالمالک نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
اکتوبر کے وسط میں جنوبی وزیرستان میں طالبان شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہونے کےبعد سے ملک کے مختلف حصوں میں خودکش بم دھماکوں اور دہشت گردی کی دوسری ایسی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ماہ پشاور کے ایک مصروف بازار میں ہونے والے طاقتور کاربم دھماکے میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی۔


