دنیا کے مختلف ممالک میں خواتین کے حجاب اور برقعے کے بارے میں تنازعات نے بھارت کو بھی اس کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ صوبہ کرناٹک جہاں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں برقعے پر تنازعے نے مسلمانوں میں ناراضگی پیدا کردی ہے۔

 منگلور شہر کے ایک کالج میں ایک مسلم طالبہ کو برقع پہن کر کیمپس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اس کے خلاف مسلم تنظیمیں میدان میں آگئیں اور بنگلور یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اس کالج کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔ وائس چانسلر ایم کاویرپا نے ایس وی ایس ایڈڈ ڈگری کالج سے جواب طلب کیا ہے۔

بی کام فرسٹ ایر کی طالبہ عائشہ یاسمین نے شکایت کی ہے کہ کالج انتظامیہ نے اسے مذہبی عقائد پر عمل کرنے سے روک دیا ہے جو ہندوستانی آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ طالبہ نے کہا کہ اسے دو دن تک کلاس میں آنے سے روک دیا گیا۔

 وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ امدادی کالجوں کو اپنے قواعد خود طے کرنے کا اختیار ہے، اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا جا سکے تو یاسمین نو ابجکشن سرٹیفکیٹ حاصل کرتے ہوئے کسی دوسرے کالج میں شریک ہوسکتی ہیں۔

 اس دوران SVS کالج کے نمائندے گنیش پربھو نے کہا کہ ان کے کالج میں کسی طالب علم کو مذہبی شناخت سے متعلق لباس پہننے کی اجازت نہیں ہے۔

اس دوران تنازعے نے اس وقت نیا موڑ لے لیا جب بعض اسلامی مفکرین نے کالج کے اس اقدام کی تائید کردی۔ ان کا کہنا ہے کہ کالج کے قوانین پر عمل کیا جانا چاہئیے کیونکہ اسلام کس لباس (ڈریس کوڈ) کے نفاذ کو مخصوص نہیں کرتا۔

نامور اسلامی دانشور مولانا وحید الدین خان نے بتایا کہ برقع اسلام کا حصہ نہیں بلکہ کلچر کا حصہ ہے، جس کلچر پر برصغیر کے عوام سالہاسال سے عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر کوئی بھی ڈریس کوڈ لاگو نہیں کرسکتا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بالکلیہ غیر اسلامی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایک کالج کا قانون اس بات کا متقاضی ہے کہ برقع نہ پہنا جائے اور سکارف نہ باندھا جائے تو اس قانون کا احترام کرتے ہوئے اس پر عمل کرنا چاہئیے۔ اگر آپ اس قانون سے متفق نہیں ہیں تو کالج چھوڑ دیجیئے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کی ایک اسلامی عالمہ فریدہ خان کا کہنا ہے کہ برقع کٹر رویے کی نشانی بن گیا ہے اور اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ آپ اس بات کو قبول کرلیں کہ برقع برصغیر کے کلچر کا حصہ ہے جس کا خود کش بم اندازی کےلیے غلط استعمال کیا گیا ہے، کیوں نہ برقعے کو ترک کردیا جائے جب کہ برقع کسی اسلامی ڈریس کوڈ کا حصہ نہیں ہے۔ مولانا وحید الدین خان کی صاحبزادی فریدہ نے بتایا کہ میں اپنی طالبات کو مشورہ دیتی ہوں کہ وہ یونیورسٹی میں برقع نہ پہنیں۔