چینی وزیرِ اعظم وین جیاباؤ نے عرب ممالک کے ساتھ معاشی، سیاسی اور ثقافتی میدانوں میں قریبی تعاون کا اعادہ  کیا ہے۔

ہفتے کو قاہرہ میں عرب لیگ سے خطاب میں  اُنھوں نے کہا کہ تہذیبوں کی رنگارنگی کی  قدر دانی سےتعلقات  میں بہتری  لائی جاسکتی ہے۔

وین  نے کہا کہ عربوں کے لیے چین کا  کردارایک بااعتماد بھائی  کا ہے۔   اُنھوں نے توجہ دلائی کہ اِن ملکوں کے درمیان تجارت کی تاریخ شاہراہِ ریشم جتنی قدیم ہے۔

مسٹر وین نے کہا کہ جدید دور میں تجارت میں اضافہ ہوا ہے اور 2004ء کے مقابلے میں گذشتہ برس اِس  کی شرح تین گنا بڑھی ہے اور یہ 132ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔

چینی لیڈر نے یہ بات قاہرہ میں چین افریقہ تعاون کے فورم سے خطاب سے پہلے کی۔  اِن دِنوں مصر کے تفریحی مقام شرم الشیخ میں سرمایہ کاری  پراعلیٰ سطحی  اجلاس ہو رہا  ہے۔

 اُنھوں نے صدر حسنی مبارک سے دوطرفہ تعلقات پر مذاکرات کیے ہیں۔  عرب لیگ میں اُن کے خطاب کا محور بنیادی طور پر ثقافتی تنوع اور احترام ہی رہا۔

اُنھوں نے اِس جانب توجہ دلائی کہ چین میں 56نسلی گروہ آباد  ہیں جب کہ دو کروڑ سے زائد مسلمان بستے ہیں۔  اُنھوں نے تفصیلی طور پر اِس بات کا ذکر کیا کہ چینی حکومت  نے مسلمانوں کی غذائی ضروریات  کے حصول کو یقینی بنانےکے لیے  کیا  اقدامات  کیے۔

وزیرِ اعظم وین نے یہ بھی کہا کہ چینی حکومت تمام نسلی گروپوں کی برابری اور مساوات کے لیےمصروفِ عمل ہے۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس کی  چین مخالفین  یغور اورچین کے تبتی علاقے کے مخالفین تنازع آرائی کرتے ہیں۔   اُنھوں نے مزید کہا کہ وہ دہشت گردی کو کسی نسلی گروپ یا مذہب سے  منسلک کرنے کے تصور کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر مسلمان یغور سوال اُٹھاتے  ہیں جنھیں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات پر حراست میں لیا جا تا رہا ہے۔

قاہرہ میں چینی لیڈر کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا گیا لیکن اُن کی طرف سے عرب  کلاسک الف لیلیٰ کو روزمرہ چینی زندگی کا حصہ بتانے کے حوالے پر عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل امر موسیٰ نے ناگواری کا اظہار کیا۔  اُن کا کہنا تھا کہ گرچہ داستانوں اور کہانیوں میں دل چسپ تاریخی تصورات شامل کیے جاتے ہیں لیکن وقت گزر چکا ہے۔  اُنھوں نے عرب دنیا میں تقابلی برآمدات سمیت سائنسی کتب کی طرف توجہ دلائی۔

عرب لیگ کے سربراہ نے توجہ دلائی کہ چین ترقی کی ایک ایسی مثال ہے جس کی تقلید کرنی چاہئیے۔