چینی عہدے داروں نے کہا ہے کہ شمال مشرقی چین  میں ہفتے کے روز صبح سویرے کوئلے کی ایک کان میں گیس کے ایک  دھماکےمیں ہلاک ہو نے والے کان کنوں کی تعداد بڑھ کر اب 92 ہوگئى ہے.

 

سرکاری خبر رساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ  مزید 16  کان کن دو دن سے بدستور زیرِ زمین بہت گہرائی میں پھنسے ہوئے ہیں۔  امدادی کارکن آکسیجن کے ٹینک استعمال کرتے ہوئے ملبے اور زہریلی گیس کے مقامات سے گزر کر پھنسے ہوئے آدمیوں تک پہنچنے کی  کوشش کررہے ہیں۔

 

صدر ہُو جن تاؤ اور وزیرِ اعظم وَچیا پاؤ نے ہفتے کے روز امدادی کوششیں تیز تر کردینے کے احکام جاری کیے تھے۔   اُنہوں نے ہائى لونگ  چیانگ صوبے میں ان کارروائیوں کی نگرانی کے لیے  ایک اعلیٰ عہدے دار کو بھی روانہ کردیا ہے۔

 

چین میں کوئلے کی کانوں میں اکثر جان لیوا حادثے ہوتے رہتے ہیں۔  سرکاری اندازوں کے مطابق، پچھلے سال اس قسم کے حادثوں میں تین ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔  تاہم غیر سرکاری  نگراں تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔