’طلسمِ ہوش ربا‘ کی مشہورِ عالم داستان کے سنسنی خیز واقعات، مصنفین کا ڈرامائی اندازِ بیان، اور ہندوستان سے آئے ہوئے صدا کاروں کی طرف سے داستان گوئی کے قدیم فن کو زندہ کرنے کی کامیاب کوشش نے مل کر وہ رنگ باندھا کہ گویا حاظرین پر سحر پھونک کر رکھ دیا۔

یہ قصہ ہے واشنگٹن کے نواح میں ہونے والی داستان گوئی کی ایک محفل کا جس میں اکیسویں صدی کے داستان گوؤں محمود فاروقی اور دانش حسین نے طلسمِ ہوش ربا کا ایک حصہ پڑھ کر، بلکہ پرفارم کر کے سنایا۔ ماحول میں روایتی رنگ بھرنے کے لیے دونوں داستان گوؤں نے انگرکھے زیبِ تن کیے ہوئے تھے اور سر پر دوپلی ٹوپیاں اوڑھ رکھی تھیں، ان کی نشست گاؤ تکیوں پر تھی اور حلق تر کرنے کے لیے سامنے گلاسوں کی بجائے چاندی کے کٹورے رکھے ہوئے تھے۔ یہ داستان گو بھارت سے آئے ہوئے تھے۔ ویسے تو یہ نیویارک میں ہونے والے ’مسلم وائسز‘ میلے میں مدعو تھے، لیکن واشنگٹن کے سمتھ سونین انسٹی ٹیوٹ کی منجولا کمار نے انھیں خاص طور پرایک دن کے لیے واشنگٹن بلایا تھا۔

طلسمِ ہوش ربا انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں اس زمانے کے مشہور اشاعتی ادارے نول کشور پریس نے شائع کی تھی۔ یہ اصل میں داستان امیر حمزہ کے کل کا ایک جزوہے۔ داستان امیر حمزہ کا قلزم 46 جلدوں پر محیط ہے اورغالباً اسے دنیا کی طویل ترین داستان کہا جا سکتا ہے۔ اس داستان کے مرکزی کردار رسولِ پاک کے چچا حضرت امیر حمزہ اور ان کا وفادار ملازم عمرو عیار ہیں، جو طاغوتی قوتوں سے نبرد آزما ہوتے ہیں اور اس دوران طرح طرح کی سنسنی خیز مہمات سے گزرتے ہیں۔

داستانِ امیر حمزہ گیارھویں صدی عیسوی میں فارسی زبان میں وجود میں آئی تھی۔ اس کے بعد اس داستان کو مسلم دنیا کے طول و عرض میں پھیلنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ ہندوستان میں اس داستان کو مغلوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اکبر چوں کہ پڑھ نہیں سکتا تھا، اس لیے اس نے پوری داستان کو مصور کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ یہ غالباً آرٹ کی تاریخ کا عظیم ترین منصوبہ تھا، جس کے تحت پندرہ برس کے عرصے میں ہندوستان کے عمدہ ترین مصوروں نے 14 سو تصاویر تیار کیں جن میں داستان کے چیدہ چیدہ مناظر پیش کیے گئے تھے۔ اکبر کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ درباری داستان گو کہانی بیان کرتا جاتا تھا جب کہ کہانی کی مناسبت سے بادشاہ کے ساتھ تصاویر لائی جاتی تھیں۔ آپ چاہیں تو اسے اس زمانے کی ’اینی میٹڈ‘ فلم سمجھ سکتے ہیں۔

اردو میں پہلی بار یہ داستان انیسویں صدی میں ضابطہٴ تحریر میں لائی گئی۔ نول کشور نے اس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے خاص طور پر طلسمِ ہوش ربا لکھوائی، جس کی سات جلدیں ہیں۔ ان میں سے پہلی چار جلدیں محمد حسین جاہ نے لکھیں، جب کہ بقیہ تین احمد حسین قمر نے۔

 حال ہی میں سنگِ میل پبلی کیشنز لاہور نے یہی سات جلدیں دوبارہ شائع کر دی ہیں، جس سے شائقین ایک بار اس داستان سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ تاہم اسے سنگِ میل کی سستی کہیئے یا لاپروائی، یا جلد از جلد منافع بٹورنے کی کوشش، کہ انھوں نے نئے سرے سے کتابت کروانے کی بجائے سو سال پرانی کتابوں کی فوٹو کاپی شائع کی ہے۔ ایک صدی کے عرصے میں املا اور طرزِ کتابت میں اتنی تبدیلیاں آ چکی ہیں کہ آج کے قاری کے لیے ان کتابوں کو روانی اور سہولت سے پڑھنا بہت مشکل ہے۔ خیر، اس جملہٴ معترضہ کے بعد واپس داستان گوئی کی محفل کی طرف چلتے ہیں۔

محمود فاروقی نے بتایا کہ انھیں داستان گوئی کا چسکہ اپنے ماموں اور اردو کے مایہٴ ناز نقاد شمس الرحمن فاروقی سے لگا، جنھوں نے داستان کے فن پر دو عدد بے حد وقیع کتابیں تحریر کر رکھی ہیں۔ انھی نے محمود کو مائل کیا کہ وہ قصہ گوئی کی فراموش کردہ روایت کی بازیافت کریں۔ بعد میں تھیئٹر کے فن کار دانش بھی محمود کے ساتھ آ کر مل گئے اور اس کے بعد سے ان دونوں کا کاروان دنیا بھر میں جادہ پیما ہے۔

محمود فاروقی اور دانش حسین داستان سرا ہیں

انداز ان کا یہ ہوتا ہے کہ پہلے وہ داستان کا مختصر تعارف کرواتے ہیں اور یہ ہدایت خاص طور پر کرتے ہیں کہ اگر حاضرین کو کسی لفظ کے معنی معلوم نہ ہوں تو وہ دل چھوٹا نہ کریں بلکہ کہانی کا سرا تھامے رکھیں، اس طرح وہ انھی پتھروں پر چلتے ہوئے داستان سے محظوظ ہو سکیں گے۔ چوں کہ یہ داستان اس زمانے میں لکھی گئی تھی جب ہماری ادبی روایت کو اپنے اوپر بھرپور اعتماد تھا،اور ابھی کہانی کے بیانیہ اور اسلوب پر مغربی لالٹینوں کی روشنی نہیں پڑی تھی، اس لیے آج کے سامع کو ان داستانوں کا سرا تھامے رکھنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر جلدِ دوم سے داستان کا یہ ٹکڑا دیکھیئے:

اسی اثنا میں شاہدِ زریں لباب شب نے زلفِ مشکیں فام کھولی، بزمِ عالم میں آکر جلوہ گر ہوئی، اور زینت طرازِ دہر نے کہکشاں سے مانگ کر عروس چرخ کی سنواری۔

شام ہوتے ہی تمام بارہ دری میں روشنی ہوئی اور باغ میں قنادیلِ بلوریں لٹکائی گئیں، سروِ چراغاں اپنا فروغِ بہار دکھانے لگے۔ نہروں میں کنول روشن کر کے ڈال دیے گئے، بجرے پڑ گئے، جل ترنگ بجنے لگا۔۔۔ چادرِ آب منقش و رنگیں تھی، شاہدِ آب ہر ہفت زیور سے مزئین تھی۔ جہاں کہیں پانی گھومتا تھا، وہیں کنول بھی گرد گھومتے تھے۔ اس وقت کی بہار قابلِ دید تھی۔ گویا شعلہ رو لباس رنگا رنگ زیبِ جسم کیے گردش کھاتے تھے۔ کنارے کنارے کنیزانِ دُر در گوش، مرصع پوش، جل ترنگ کے ساتھ اشعارِ بہار انگیز گاتی تھیں۔

اس طرح کے مسائلِ تصوف وہاں اور شدت سے پیش آتے ہیں جہاں لباس اور زیورات کا بیان آتا ہے، کیوں کہ ہماری زبان سے ان میں سے بیشتر الفاظ خارج ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ لغات میں بھی اگر ان میں سے کسی لفظ کا ذکر آتا ہے تو’ایک قسم کا زیور‘ یا ’ایک قسم کا لباس‘ ہی پر اکتفا کر دی جاتی ہے۔ لیکن خیر، محمود و دانش کے فن کا کمال یہی ہے کہ اس طرح کے ’مقاماتِ آہ و فغاں‘ کے باوجود سامعین ان کی داستان سے دل کھول کر محظوظ ہوئے اور جگہ جگہ آہ و واہ کے ڈونگروں یا قہقہوں اور تالیوں سے قصہ گوؤں کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ ویسے بھی محمود نے ابتدایے ہی میں واضح کر دیا تھا کہ وہ ’شہود‘ اور ’شاہد‘ یعنی فن کار اور پرستار کو شیر و شکر کی طرح آمیخت دیکھنا چاہتے ہیں، اس لیے انھوں نے خاص طور پر حاضرین سے گزارش کی تھی کہ وہ اپنی کرسیوں سے اتر کر ان کے چاندنی بچھے چوبی تخت کے اردگرد حلقے میں آلتی پالتی مار کر جلوہ افروز ہو جائیں۔ آج کل کی زبان میں اسے ’انٹرایکٹیو پرفارمنس‘ کہا جائے گا۔

(داستان کا نمونہ اوپر دائیں ہاتھ پر دیے گئے لنک پر کلک کر کے سنا جا سکتا ہے)

شاید گزرے دنوں کے داستان گو بھی کچھ اسی قسم کی محافل میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوں گے۔ اردو کے صاحبِ طرز ادیب اشرف صبوحی نے اپنی کتاب ’دہلی کی چند عجیب ہستیاں‘ میں ایسے ہی ایک داستان گو کا ذکر کیا ہے، جو غالباً اس روایت کا آخری نمونہ تھے۔ یہ ہیں میر باقر علی داستان گو، جن کے مداحوں میں بابائے اردو مولوی عبدالحق بھی شامل تھے۔ صبوحی نے 1911ء میں ہونے والی داستان گوئی کی ایک محفل کا ذکر کیا ہے جس میں میر صاحب نے غالباً آخری بار اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔ وہ محفل کے مزاج اور حاضرین کے ردِ عمل کو بھانپتے ہوئے وہیں کھڑے کھڑے داستان گھڑا کرتے تھے۔ یعنی کہانی کا بنیادی پلاٹ تو وہی رہتا تھا، لیکن اس کی جزئیات بدل جایا کرتی تھیں۔

صبوحی نے لکھا ہے کہ میر صاحب دہلی کی مخصوص گنگا جمنی تہذیب کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھے۔ اگر لڑائی کا ذکر آتا تو اس کی تفصیلات اس قدر مہارت سے بیان کرتے کہ لگتا گویا ساری عمر میدانِ کارزار میں بسر کی ہے۔ خواتین کے لباس و زیورات اور بناؤ سنگھار کا بیان آتا تو گمان گزرتا کہ جیسے بساطی و خیاطی و مشاطگی کے سوا زندگی میں کوئی اور کام نہیں کیا۔ صبوحی کہتے ہیں کہ میر باقر علی داستان گو دہلی کے مشہور حکیم اجمل خان کے پاس جا کر ان سے مختلف امراض، ان کے علاج اور ادویات کے بارے میں مشورہ کیا کرتے تھے، تاکہ بوقتِ ضرورت ان معلومات کو کام میں لایا جا سکے۔

انیسویں صدی کے داستان گوؤں کا ذکر عبدالحلیم شرر کے ہاں بھی ملتا ہے، جنھوں نے اپنی کتاب ’گذشتہ لکھنو‘ کے ایک باب میں داستان گوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ شرر کے مطابق لکھنو میں سینکڑوں کی تعداد میں پیشہ ور داستان گو موجود تھے جس سے اس زمانے میں داستان گوئی کی بے پناہ مقبولیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ شرر نے مختلف شہروںمیں داستان گوئی کے مختلف ’دبستان‘ بھی گنوائے ہیں۔

ان داستان گوؤں کا ایک کمال یہ تھا کہ بعض اوقات وہ اپنی استادی دکھانے اور فن پر گرفت کا مظاہرہ کرنے کے لیے داستان ’روک‘ دیا کرتے تھے۔ داستان روکنے سے مراد یہ ہے کہ کہانی وہیں کی وہیں رہتی تھی اور جزئیات اور تفصیلات کے بیان میں کئی کئی دن بِیت جاتے تھے۔ اس سلسلے میں محمود فاروقی نے ایک دل چسپ واقعہ سنایا:

’ایک بار ایک داستان گو ایک نواب کے دربار میں داستان امیر حمزہ کی کسی عظیم جنگ کی روداد بیان کر رہے تھے۔ کہانی کا ہیرو ایک شہزادہ ہے جو منزلوں پر منزلیں مارتا ہوا میدانِ جنگ میں پہنچا ہے۔ رن میں پہنچ کر شہزادے نے گھوڑے کی باگیں کھینچیں، ایک قدم زمین پر رکھا، دوسرا ابھی رکاب ہی میں تھا۔۔۔ کہ داستان گو نے داستان روک دی۔ اب میدانِ حرب کا احوال شروع ہو گیا، غالباً کچھ اس انداز میں، جوطلسمِ ہوش ربا کی جلدِ اول میں مذکور ہے:

صف آرائی شروع ہوئی، میمنہ و میسرہ و قلب و جناح و ساقہ و کمین گاہ، چودہ صفیں مثلِ سدِّ سکندر کے آراستہ ہوئیں۔ سواروں کے آگے پیادے، جنگ کے آمادے، دیوارِ فوج تھے۔ سوار دریائے لشکر میں موج در موج تھے۔ گھوڑے برابر، تھوتھنی سے تھوتھنی، پٹھے سےپٹھا، دم سے دم، سم سے سم ملاتے تھے۔ نقیب جو آگے بڑھ آتا تھا، اسے پیچھے کو ہٹاتے تھے۔ گھٹے ہوئے کو آگے بڑھاتے تھے۔ دم بہ دم باجے رزمی بجتے تھے، مرکب الف ہوتے تھے۔ ‘

ایک دن گزرا، دو دن گزرے، چار دن ۔۔۔ لیکن داستان گو ہیں کہ لشکر، میدانِ جنگ، اسلحے، گھوڑوں، خیمہ و خرگاہ اورسپاہیوں کے حلیے اور وضع قطع کے احوال کے دریا کے دریا بہائے چلے جا رہے ہیں۔ آخر چھٹے دن نواب صاحب سے رہا نہیں گیا۔ انھوں نے ذرا سا کھنکار کر قصہ گو کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی اور ذرا دھیمے سے لکھنوی لہجے میں بولے:حضت، اب ذرا شہزادے کو دوسرا قدم بھی زمین پر رکھنے کی اجازت دیجیے، بے چارہ تھک گیا ہو گا۔‘

محمود فاروقی (دائیں) اور دانش حسین

اشرف صبوحی نے میرباقرعلی کے بارے میں لکھا ہے کہ اگرچہ وہ منحنی جسم کے مالک تھے لیکن جب کسی باجبروت شہنشاہ کا ذکر آتا تھا تو ان کے تن و توش سے جلال ٹپکنے لگتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے دارا و جمشید مجسم ہو گئے ہوں۔ اسی طرح اگر کسی بڑھیا کا احوال بیان کرنے لگتے تو اس میں حقیقت کا وہ رنگ بھرتے تھے کہ جیسے واقعی کوئی پیرہٴ فرتوتِ بے دنداں سامنے کھڑی ہے۔ یہی خوبی ہم نے محمود و دانش کی داستان طرازی میں بھی دیکھی، کہ ان کا لب و لہجہ آواز کا اتارچڑھاؤ اور اندازِ بیاں کہانی کے پیچ و خم اور کرداروں کی مناسبت سے رنگ بدلتا رہتا تھا۔

بعد میں محمود نے بتایا کہ وہ کوشش تو کرتے ہیں کہ الفاظ کو کتاب کے صفحات کی قید سے نکال کر زندہ کریں، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ شمس الرحمن فاروقی کی ہدایت کے مطابق داستان کو داستان ہی رہنے دیتے ہیں، اسے ڈراما بنانے کی کوشش نہیں کرتے۔

ویسے برسبیلِ تذکرہ یونانی المیے کے آغاز کے بارے میں ایک نظریہ یہ ہے کہ اس کے سوتے اس زمانے میں گائی جانے والی ایپک اور لرِک نظموں کے بطن سے پھوٹے۔ پہلے تو ایک ہی شخص گایا کرتا تھا، رفتہ رفتہ تین اشخاص مکالمے ادا کرنے لگے اور پس منظر کورس کی زبانی بیان ہونے لگا، اور یوں ڈراما وجود میں آگیا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان میں داستان گوئی کی روایت ختم کرنے میں اسی تھیئر نے اہم کردار ادار کیا جس سے محمود و دانش پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں۔

تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ ویسے تو انیسویں صدی کے وسط تک پارسی تھیئٹر قائم ہو چکا تھا، لیکن بیسویں صدی کے شروع میں لاہور، دہلی اور کلکتے میں پارسی تھیئٹر کو زبردست فروغ حاصل ہوا۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ موسیقی کے ریکارڈ بھی چھپنا شروع ہو گئے۔ کچھ ہی برسوں کے بعد ہندوستان میں فلمی صنعت قائم ہو گئی۔ چناں چہ دادا صاحب پھالکے کی 1913ء میں بنائی گئی فلم ’راجا ہریش چندر‘کو ہندوستان کی پہلی فلم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

ہندوستان میں بننے والی پہلی فلم ہریش چندر جو 1913ء میں نمائش کے لیے پیش کی گئی

ایک طرف تو نئے زمانے کی خیرہ کن چمک نے داستان گوئی کے پرانے انداز و اطوار کی رونقیں چھیننے میں کردار ادا کیا، تو دوسری طرف سرسید اور حالی کی ’نیچرل‘ تحریک کی وجہ سے طلسمِ ہوش ربا کی کوہِ قاف اور جنوں پریوں کی محیر العقول داستانیں بھی فیشن سے باہر ہو گئیں۔ اس کے ساتھ ہی داستانوں کا اسلوب، مرصع و پرتکلف اندازِ بیان اور قوافی کا اہتمام بھی نئے زمانے کے معیارات کا ساتھ نہیں دے سکا۔ یہ زمانہ اپنی اصناف اور اسالیب بھی ساتھ لے کر آیا، ناول اور افسانے اپنی جگہ بنانے لگے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ آخری داستان گو میر باقر علی اپنے گھر ہی پر محفل کا اہتمام کرنے لگے۔ لیکن بہت سے لوگ داستان کے درمیان سے اٹھ کر چلے جاتے تھے کہ ب’بائیسکوپ کا وقت ہو گیا ہے۔‘ آخری عمر میں میرصاحب کو خوانچہ لگا کر کتھا چھالیہ بیچتے ہوئے دیکھا گیا اور یوں بیسویں صدی کی پہلی ربع صدی کے ختم ہوتے ہوتے داستان گوئی کا فن بھی دم توڑ گیا۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے آغاز میں فینٹسی کہانیاں ایک بار پھر فیشن میں داخل ہو گئی ہیں۔ مغرب میں ہیری پاٹر، کرانیکلز آف نارنیا، دی گولڈن کمپس وغیرہ جیسے ناولوں اور فلمی سلسلوں کی بے پناہ مقبولیت اس بات کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید انسان سائنس اور ٹیکنالوجی کی ’مشینیت‘ اور بے رنگی سے اکتا چکا ہے اور اس کے تخیل کو نئی سبزہ گاہوں کی ضرورت ہے۔

ایسے عالم میں محمود و دانش کا وردو اردو دنیا کے لیے کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ نہ صرف خود فنِ داستان گوئی میں خاطر خواہ ترقی کریں گے بلکہ ان کی وجہ سے اس قدیم صنف کی عمومی تجدید میں بھی مدد ملے گی۔