اقوامِ متحدہ کے ماورائے عدالت قتل کے خصوصی نمائندے فلپ آلسٹن نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ڈرون کے استعمال کر کے دہشت گردوں کی ہلاکت ممکنہ طور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ فلپ آلسٹن نے منگل کے روز واشنگٹن میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو لازمی طور پر یہ واضح کرنا ہو گا کہ وہ ان طیاروں کی مدد سے لوگوں کو بلاامتیاز قتل نہیں کر رہا۔
امریکی عہدے داروں نے کبھی بھی ڈرونز استعمال کرنے کی تصدیق نہیں کی، تاہم میڈیا میں وسیع پیمانے پر یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ ہ سی آئے اے نے پاکستان کے آزاد وقبائلی علاقوں میں سرگرم مشتبہ دہشت گرد لیڈروں کو ہلاک کرنے کے لیے اِن طیاروں کو استعمال کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے خصوصی تفتیش کار، فلپ آلسٹن نے بین الاقوامی قانون کے تحت ڈرونز کے استعمال کی قانونی حیثیت پر سوال اُٹھایا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ مجھے تشویش ہے کہ یہ ڈرونز ایک ایسے فریم ورک میں استعمال کیے جارہے ہیں جو ہو سکتا ہے کہ انسانیت کے بین الاقوامی قانون یا انسانی حقوق کے عالمی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہو۔
اُنھوں نے کہا کہ حقیقتاً یہ ذمے داری امریکی حکومت کی ہے کہ وہ اُن طریقوں کے بارے میں مزید تفصیلات افشاکرے جِن کو وہ یقینی بناتی ہے کہ ڈرونز کے استعمال کے ذریعے من مانی موت کی سزائیں یا ماورائے عدالت سزائیں عمل میں نہیں آرہی ہیں۔
امریکی عہدے داروں نے کبھی بھی اِن حملوں کی تصدیق نہیں کی ہے اور کہا ہے کہ وہ آپریشن یا انٹیلی جنس سے متعلق امور پر بات نہیں کریں گے۔
خصوصی تفتیش کار نے جو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل کی جانب سے مقرر کیے جانے والے غیر جانبدار ماہر ہیں کہا ہے کہ اِس بارے میں امریکہ کا جواب اب کمزور ہے اور یہ کہ واشنگٹن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ڈرون پروگرام کے پہلوؤں پر بات کرنے کے لیے زیادہ رضامند ہو۔
اُنھوں نے کہا کہ بصورتِ دیگر آپ کو حقیقتاً اِس مسئلے کا سامنا ہوگا کہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ایک ایسا پروگرام چلا رہی ہے جو نمایاں تعداد میں لوگوں کو ہلاک کررہا ہے اور متعلقہ بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے قطعی طور پر کوئی جواب داری موجود نہیں ہے۔
آلسٹن نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو وضاحت کرنی چاہیئے کہ اِس پروگرام کو کون چلا رہا ہے اور اِس بات کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدابیر کی گئی ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے دائرہٴ کار کے اندر اِن ہتھیاروں کو استعمال کیا گیا ہے۔
اُنھوں نے مزید کہا کہ اُن کے استعمال کے بارے میں جواب داری اور طریقہٴ کار کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

