بھارت کے ساحلی علاقے میں بسے ہوئے شہر گوا میں پیر کی رات 40 ویں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا کا آغاز بیتے دور کی خوب صورت اداکارہ وحیدہ رحمان کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ 23 نومبر سے 3 دسمبر تک چلنے والے اِس فلمی میلے کی اِفتتاحی تقریب میں نشریات اور اطلاعات کی وزیر امبیکا سونی اور گوا کے وزیر اعلی ڈیگمبر کامت کے علاوہ فلم گجھنی سے بالی وڈ میں قدم رکھنے والی جنوبی بھارت کی مشہور ہیروئین آسین بھی موجود تھیں۔
دس روزہ طویل انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا کا آغاز چین کی فلم ’ویٹ’ سے کیا گیا۔ فلمساز ہی پینگ کی فلم ویٹ، چین کے دو قبیلوں کے درمیان کی جنگ پر مبنی ہے۔
فیسٹیول کے منتظمین کو امید ہے کہ 50 ممالک کے 6000 فلمی نمائندے آنے والے دس دنوں میں گوا میں منعقد بین ا لاقوامی فلمی میلے کا حصہ بنیں گے۔
انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا میں بالی ووڈ کے ساتھ ساتھ ہالی ووڈ اور دیگر ممالک کی فلم انڈسٹریز کی 300 فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔ پیر کے روز بالی وڈ کی منجھی ہوئی اداکارہ نندیتا داس، ساریکا اور دیویا دتتا بھی فیسٹیول میں شرکت کرنے کے لیے گوا پہنچیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گوا کے اِس فلم فیسٹیول کے دوران بالی وڈ کی 87 سالہ پرانی فلمی تاریخ کو پرانے زمانے کی بلیک اینڈ وہائیٹ فلموں کے پوسٹرز کے ذریعے سنیمابینوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نیشنل فلم آرکائیوز کے مطابق 350 پرانی فلموں کے پوسٹر گوا کے پاناجی ضلع کے علاقوں میں چسپاں کیے گئے ہیں جہاں اِس وقت فیسٹیول جاری ہے جن میں 1913ء میں ریلیز ہوئی فلم ہریش چندرا کے پوسٹر بھی شامل ہے۔
امید کی جارہی ہے کہ 1982ء میں فلم’گاندھی‘ میں مہاتما گاندھی کا کردار کرنے والے بین کنگزلی بھی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا میں شرکت کریں گے۔ کنگزلی اِن دنوں اپنے نئے فلم پروجیکٹ تاج محل کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔
واضح رہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے بھارتی بین الاقوامی فلمی میلہ گوا شہر میں منعقد کیا جارہا ہے۔ اور ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی بالی ووڈ کی نامور شخصیت امیتابھ بچن کو فیسٹیول میں شرکت کرنے کے لیے دعوت نامہ نہیں دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلمی میلے پر بھی سیاسی بادل چھائے ہوئے ہیں۔


