جہاں ایک طرف امریکہ میں پچھلے ہفتے ٹیکسس کی امریکی فوجی چھاؤنی میں ہونے والے قاتلانہ حملے کا ابھی تک سوگ منا یا جارہا ہے، وہاں امریکی پریشان کُن اور مشکل سوالات کے جوابات ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں۔ حملے کا اشتعال دلانے والی ایسی کیا بات تھی جس کے باعث فورٹ ہڈ میں 13جانیں ضائع ہوئیں؟ کیا اِس المیےکو ٹالا جاسکتا تھا؟ اورآئندہ اِس نوع کے حملے سے باز رہنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں؟

شاید یہ قدرتی امر ہے کہ لوگ اِس بے تکے المیے کےٹھوس جوابات تلاش کرنے کی جستجو کررہے ہیں، اور یقینی طور پرایک عرصے تک فورٹ ہڈ حملے سے سیکھے جانے والے سبق کے بارے میں سوچا جاتا رہے گا اور اِس پر بحث ہوتی رہے گی۔

صدر براک اوباما نے ہلاک ہونے والوں کی تعزیت کے لیے منگل کو ہونے والی تقریب سے خطاب میں کہا کہ حملے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ تنازعات کے خطوں سے بہت دور بھی امریکی فوجی ارکان کو سنگین خطرات سے سابقہ پڑ سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ جنگ کی حالت میں ہے، لیکن اِن امریکیوں نے غیر ملکی جنگی میدان پر جان نہیں دی، بلکہ وہ یہاں امریکی سرزمین پر ہلاک ہوئے۔

مبینہ قاتل فوجی سائکاٹرسٹ نضال مالک حسن پر فردِ جرم ابھی عائد ہونا باقی ہے۔ حسن کو ایک سویلین خاتون پولیس افسر نے چار بار گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔ اگرچہ  اب اس کی حالت سنبھل گئی ہے، تاہم اب تک نہ تو اُنھوں نے اور نہ ہی اُن کے وکیل نے حملے کے محرکات کے بارے میں کوئی بیان دیا ہے۔ لیکن حسن کی سابقہ سرگرمیوں اور وابستگیوں کے بارے میں تندہی سے تفتیش جاری ہے۔

نضال صوم و صلوٰة کے پابند مسلمان ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اُس نے فائر کھولتے وقت‘اللہ اکبر’ کا نعرہ بلند کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی آئندہ تعیناتی پر پریشان تھے اور فوجی عہدے داروں کو خبردار کیا تھا کہ اگر مسلمان امریکی فوجیوں کو اپنے مسلمان بھائیوں سے لڑنے کے لیے بھیجا جاتا رہے گاتو اُس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

 مزید یہ کہ خفیہ امریکی اداروں کے عہدے داروں نے بتایا ہے کہ اُنھوں نے حسن اور یمن کے امام العولقی کے درمیان اِی میلوں کے تبادلے کا سراغ لگایا تھا۔ امام العولقی اپنی شدید امریکہ مخالف تعلیمات کی بنا پر جانے جاتے ہیں، جِن کی شدت پسند اسلام پرست تعظیم کرتے ہیں۔

جمہوریت پسندامریکی اسلامی فورم کے صدر زہدی جاسرکے مطابق حسن کے بارے میں جو تصویر ابھرتی ہے کہ وہ یہ کہ وہ ایک مذہبی شخص ہیں جِن کے عقائدکی بنیاد شدت پسندی پرہے۔

اُن کے خیال کے مطابق حسن وہابی مسلک کی طرف مائل ہورہے تھے۔ وہابیت کی سوچ یہ ہے کہ اسلامی نظام کو کسی دوسرے حکومتی نظام پر سبقت حاصل ہے، یعنی کسی بھی طور اسلامی ریاست کو مسلط کیا جانا چاہیئے۔

جاسر کہتے ہیں کہ سیاسی اور مذہبی آزادی کے حصول کی خاطر اُن کا خاندان شام سے امریکہ آکر آباد ہوا۔ وہ اپنے ہم مذہب لوگوں کو پیغام دیتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ایسے اماموں کے ساتھ بحث مباحثہ کریں جو سیاست کے اندر مذہب کے عمل دخل پر یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نےکہا کہ جب تک مذہب اور سیاست کو الگ نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک حسن کی طرح یہ جراثیم دوسروں کے دماغ میں بھی خلل پیدا کرتا رہے گا۔ اِس کی جگہ ایسے اسلام کی آبیاری کی جائے جو جبرو استبداد سے نجات، آزادی سے ہم آہنگی، اور امریکی آئینی قانون کی پاس دادی پر یقین رکھتا ہو۔

جاسر مزید کہتے ہیں کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ امریکی فوج ایسے فوجیوں سے زیادہ خبردار رہے جو اپنے مذہبی عقائد اور فوج سے وفاداری کے درمیان کش مکش سے دوچار ہوں۔ اُنھوں نے کہا کہ حسن نے ذاتی مشکل کے بارے میں واضح اشارے دیے تھے جنھیں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیئے تھا۔

امریکی عہدے دار کہتے ہیں کہ حسن کے شدت پسند امام کے ساتھ خط و کتابت کا پتا لگایا گیا تھا لیکن پیغامات میں ایسے کوئی بیانات کے شواہد نہیں تھے جن سے تشدد پسندی کے ارادے کا اظہار ہوتاہو۔ تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ مختلف وجوہات کی بنا پر متعدد لوگ امریکی اہل کاروں کی نظروں میں آتے ہیں، جن میں کئی ایک بے ضرر نکلتے ہیں۔

 خفیہ معلومات کے بارے میں محکمہٴ خارجہ کے سابق تجزیہ کار ٹیرل آرنولڈ کا کہنا ہے کہ اِس بات کا پتا لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کہ کون کہاں اور کیسے گھناؤنا جرم کرے گا۔ اُن کے بقول فورٹ ہڈ سے جو بنیادی سبق سیکھا جاسکتا ہے وہ یہ کہ درحقیقت ایسی باتوں کے بارے میں آپ کوئی پیش گوئی نہیں کرسکتے۔ اِس سلسلے میں جو بنیادی مسئلہ آڑے آتا ہے وہ یہ کہ آزاد معاشرے میں زندگی اور انفرادی آزادی کی بہت قدر کی جاتی ہے۔ فوجی برادری میں لوگ گروپ کے دوسرے افراد کی ہتک سے احتراز کرتے ہیں اور کوئی ایسا الزام نہیں لگاتے جسے ثابت نہ کیا جاسکتا ہو۔

امریکہ میں کئی مسلمان مذہبی رہنماؤں نے فورٹ ہڈ حملے کی مذمت کی ہے۔ لیکن کئی امریکی مسلمانوں کو خدشہ ہے کہ گیارہ ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد کی طرح کہیں اُنھیں شک یا نفرت کی بنا پر ہدف نہ بنایا جائے۔

شہری حقوق کے وکلا نے ایک فرد کے عمل کی بنا پر قوم کی ساری مسلم آبادی کو ہدف بنائے جانے یا سزا وار بننے سے خبردار کیا ہے۔ ونیتا گُپتا، امریکی شہری حقوق یونین کی وکیل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ فورٹ ہڈ حملے پر لوگوں کی برہمی سمجھ میں آنے والی ہے۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ خطرہ اِس بات کا ہے کہ کہیں ہم ایسی پالیسیاں یا ضابےں نہ بنا ڈالیں جن کی بنا پر ساری برادری کے لوگوں کو گہرے شک کی نگاہ سے دیکھا جائے، اُن کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ روا رکھا جائے، جو کہ غیر امریکی طرزِ عمل پر مبنی ہو۔

تجزیہ کار ٹیرل آرنولڈ کہتے ہیں کہ کبھی کاھار کا شدت پسندی کا واقعہ زندگی کا معمول ہے، لیکن کھلے دل سے ایماندارنہ مکالمہ معاون و مددگارثابت ہوگا۔

اُن کے بقول ہمیں کوشش کر نی چاہیئے کہ ہمارے معاشرے اور نسلی گروہوں کےمابین تناؤ میں کمی لانے کے طریقے اپنائے جائیں۔