فرانس کے صدر نکولس سارکوزی نے اِس ہفتے مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے حوالے سے تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی غرض سے جمعے کو مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں سے ملاقات کی جِن میں شام کے صدر بشار الاسد بھی شامل ہیں۔ لیکن مسٹر اسد نے ابھی اسرائیل سے براہِ راست بات چیت کے تصور کو مسترد کیا ہے۔

شام کے صدر بشار الاسد نے جمعے کو فرانس کے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو سے براہِ راست مذاکرات شروع کرنے کے حق میں نہیں۔ اِس کے برعکس  اُنھوں نے نچلی سطح پر ترکی کی طرف سے ثالثی کا مطالبہ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ مسٹر اسد نے یہ تبصرہ پیرس میں فرانسسی صدر نکولس سارکوزی سے بات چیت اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کی طرف سے مکالمے کی دعوت ملنے کے بعد کیا۔

اِس سے پیشتر مسٹر اسد نے فرانس کے اخبار ‘لے فگارو’ کو بتایا کہ اسرائیل سے مذاکرات شروع ہونے سے قبل اوباما انتظامیہ کو چاہیئے کہ اِس کے لیے باقاعدہ طریقہٴ کار وضع کرے۔

فرانسسی اور شامی رہنماؤں کے مابین بات چیت فرانس کے صدر کی طرف سے شروع کی گئی سفارتی سرگرمی کا نتیجہ ہے۔ وہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ دونوں طرفین رُکے ہوئے امن مذاکرات کا دوبارہ آغاز کریں۔ مسٹرسارکوزی بدھ کو پیرس میں مسٹر نیتن یاہو سے ملے اور جمعرات کے دِن فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلی فون پر بات کی، جِنھوں نے کہا ہے کہ وہ دوسری مدت کے لیے انتخاب نہیں لڑنا چاہتے۔

فرانس کےایوانِ صدرکی طرف سے جاری ہونے والے بیانات میں مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے دوبارہ اجرا کے لیےتمام محاذوں پر کام کرنے پر زور دیا ہے، جِن میں شام بھی شامل ہے۔ ایک عرصے سے فرانس اور شام کے تعلقات میں گرم جوشی آتی جارہی ہے اور دونوں رہنماؤں نے گذشتہ سال دوروں کا تبادلہ کیا تھا۔

اِس سے پیشتر اِسی ہفتے ریڈیو فرانس کو دیے گئے انٹرویو میں وزیرِ خارجہ برنارڈ کوشنیئر نے کہا کہ تعطل کے شکار امن عمل کو آگے بڑھانے میں فرانس اور یورپی یونین اہم کردارادا کرسکتے ہیں۔

کوشنیئر کا کہنا تھا کہ یہ بات اہم ہے کہ مسٹر عباس کو قائل کیا جائے کہ وہ فلسطین کے صدرکے طور پر خدمات انجام دیں۔  اُنھوں نے کہا کہ فرانس کے فلسطینیوں اور اسرائیل کے ساتھ خوش گوار تعلقات ہیں اور فرانس اوریورپ کو علاقے میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ بہت جلد مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہورہے ہیں۔

 مشرقِ وسطیٰ کے ماہر رابن لوے کے خیال میں مسٹر سارکوزی اِس وقت امن عمل پر اِس لیے زور دے رہے ہیں کیونکہ بشمول امریکہ، اِس طرح کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہو پا رہی ہیں۔ لوے  کہتے ہیں کہ وہ نہیں سمجھتے کہ فرانس کی ثالثی سے کوئی خاص فرق پڑے گا۔

اُن کے بقول فلسطینی تناظر میں فرانس کے مؤقف یا فرانس کی موجودگی خود ایک مسئلہ ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں، عام طور پر اسرائیلی  فرانس کو زیادہ اہمیت دینے کے روادار نہیں۔  آخر ِکار امریکہ ہی رہ جاتا ہے جس  کو اہمیت دی جاتی ہے اور جسے بڑی حد تک سنا جاتا ہے۔ مجھے حیرت ہوگی اگرفرانس، یورپی یونین کے بغیرکوئی قدم اُٹھاتا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ کامیابی کی گنجائش بہت ہی کم ہے۔

ابھی تک فرانس کے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تاریخی تعلقات چلے آرہے ہیں۔  فرانس میں ہی مغربی یورپ کی سب سے بڑی یہودی اور مسلمان آبادیاں ہیں۔ جِس کا مطلب یہ ہوا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جو کچھ ہوتا ہے اُس کا فرانس پر اثر پڑنا ناگزیر ہے۔