ہفتے کو پاکستان میں گیس لوڈ منیجمنٹ پالیسی کا اعلان کیا گیا جِس کے تحت ہفتے میں دو روز صنعتی یونٹوں اور سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی فراہمی معطل رہے گی۔ تاہم کمرشل اورگھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی جاری رہے گی۔
نامہ نگاروں کو پالیسی کے اہم نکات بتاتے ہوئے وزیرِ اطلاعات قمرالزماں کائرہ نے کہا کہ گیس کی فراہمی مختلف شہروں میں متبادل دِنوں پر معطل رکھی جائے گی اور اِس دوران صنعتی یونٹوں کو تیل اور فرنِس آئل پر انحصار کرنا ہوگا۔
اُن کے مطابق اِس گیس پالیسی کے نتیجے میں 28سے 60فی صد گیس کی بچت ہوسکے گی۔ اِس حکمتِ عملی کا اطلاق 15نومبر 2009سے 15مارچ 2010ء تک رہے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ پالیسی کے تحت گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے علاوہ نئے دیہاتوں کے لیے کنکشن کی منظوری نہیں دی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں شوگر پالیسی 2009-10ء کی بھی منظوری دی گئی۔
اُن کے مطابق ملک میں چینی کی موجودہ ضرورت 42لاکھ ٹن گیس کے پیداوار متوقع ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں سال کے دوران چینی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے دس لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

