اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عالمی ادارے کی اُس متنازع رپورٹ پر بحث کا آغاز کردیا ہے جِس میں دونوں اسرائیل اور حماس پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے دوران جنگی جرائم سرزد ہوئے۔

سفارت کار بدھ کی شام تک رائے دہی میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ مشورے کی نوعیت کی قرارداد ہے جِس میں طرفین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اِن الزامات کے بارے میں تفتیش کرائی جائے۔

بدھ کے روز اسمبلی سے اپنے خطاب میں اقوامِ متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے کہا کہ عالمی ادارے نے کئی بار اسرائیل کے جرائم کو رپورٹوں میں شامل کیا ہے لیکن اُن پر سنجیدگی سے عمل درآمدکرانے کی کوشش نہیں کی۔

اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کی سفیر گیبریلا شیلو نے اسمبلی سے کہا کہ نام نہاد گولڈ سٹون رپورٹ کی بنیاد ’نفرت‘ پر ہے۔ اُنھوں نے حقائق معلوم کرنے والے مشن پر نکتہ چینی کی اور الزام لگایا کہ اِس میں حماس کی کئی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، مثال کے طور پر  گنجان آباد علاقوں میں شدت پسندوں کی کارروائیاں اور انسانوں کا ڈھال کے طور پر استعمال۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اگر چھ ماہ کے اندر تفتیش نہیں کی جاتی تو ہیگ میں اسرائیل اور حماس کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کا امکان ہے۔

اسرائیل اور حماس نے جنوری میں ختم ہونے والے غزہ کی جنگ کے دوران جنگی جرائم کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

تین ہفتے تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران 1300فلسطینی اور 13اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے  فلسطینی شدت پسند وں کی طرف سے اسرائیل پر راکٹ داغنے کے عمل کو روکنے کی خاطر فوجی کارروائی کی تھی۔
اسرائیل کے عہدے داروں نے رکن ملکوں پر زور دیا ہے کہ رپورٹ کی مخالفت کریں۔ اسرائیل کے معاون وزیرِ خارجہ ڈینی ایالون کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ اُن  پُر امن جمہوری ممالک کو نقصان دے رہی ہے جو دہشت گردی سے نبرد آزما ہیں ۔

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ اُسے رپورٹ کے بارے میں تشویش ہے۔ منگل کے روز امریکی ایوانِ نمائندگان نے بھاری اکثریت سے اس رپورٹ کی مذمت کی قرارداد منظور کی۔ امریکی ارکانِ پارلیمان نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ جانب دارانہ ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن عمل کے لیے نقصان دہ ہے۔