اردو کی مخالفت کرنے والے ملک کی سیکولر تہذیب کے دشمن:کپل سبل

ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابو الکلام آزاد کے یوم پیدائش پرعالمی اردو کانفرنس کا انعقاد

کانفرنس میں منظور کردہ قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکز کی اقلیتی امور کی وزارت میں ایک اردو سیل قائم کیا جائے۔  خواندگی مہم کو مولانا آزاد سے منسوب کرتے ہوئے اس میں غیر سرکاری تنظیموں کو بھی شامل کیا جائے۔  پلاننگ کمیشن ملک میں اردو کے فروغ کے لئے ایک ہزار کروڑ روپے مختص کرے۔  تمام ریاستوں میں اردو سرکاری زبان کمیشن قائم کیا جائے۔  تمام سرکاری اداروں میں اردو جاننے والوں کی تقرری کی جائے۔  ملازمتوں اور دوسرے پروگراموں کے سرکاری اشتہارات اردو میں بھی شائع کئے جائیں۔

ہندوستان کے 80کروڑ افراد اردو بولتے ہیں۔  جو لوگ اردو کے لئے تعصب رکھتے ہیں وہ ملک کی سیکولر تہذیب کے دشمن ہیں۔ ثقافتی تنوع، قومی یک جہتی اور ملکی اتحاد کے لئے اردو زبان بے حد ضروری ہے۔

ان خیالات کا اظہار نئی دہلی میں منعقدہ 31ویں عالمی اردو کانفرنس میں متعدد مرکزی وزرا اور مقررین نے کیا۔

ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابو الکلام آزاد کے یوم پیدائش پر، جسے یوم تعلیم کے طور پر منایا جاتا ہے، عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد فتتاح کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم کپل سبل نے اردو سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی ایک بہت بڑی اکثریت اردو بولتی ہے اور جو لوگ اردو کی مخالفت کرتے ہیں وہ اردو ہی کے نہیں بلکہ ملک کی سیکولر تہذیب کے بھی دشمن ہیں۔

ہندوستان کے 80کروڑ لوگوں کی زبان اردو ہے۔  اس کی مخالفت صرف اردو کی مخالفت نہیں بلکہ ان کروڑوں لوگوں کی مخالفت بھی ہے۔  انھوں نے اردو کے سلسلے میں حکومتوں کی پالیسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مرکز ہو یا ریاستی حکومتیں سبھی اردو کی ترقی اور اس کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔  کیونکہ اردو صرف ایک زبان کا نام نہیں بلک وہ ایک تہذیب ہے اور قومی اتحاد کی روشن علامت ہے۔  اس زبان نے جنگ آزادی میں تمام ہندوستانیوں کو متحد کیا تھا اور آج بھی یہ سیکولر اتحاد اور قومی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی شناخت بنی ہوئی ہے۔

کل ہند اردو تعلیمی کمیٹی کے زیر اہتمام اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کپل سبل نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے اقلیتوں کی تعلیم کے لئے کئی اہم اقدامات کئے ہیں تاکہ اقلیتوں کو ان کا آئینی حق مل سکے اور وہ سماجی، سیاسی، معاشی اور تعلیمی اعتبار سے ترقی کر سکیں۔  انھوں نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی کے لئے پورے خلوص اور سنجیدگی سے اقدامات کرے گی۔

مرکزی وزیر صحت غلام نبی آزاد نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی و اقتصادی انقلاب کے ساتھ ساتھ ذہنی انقلاب کی بھی ضرورت ہے۔  جو لوگ اردو کی مخالفت کرتے ہیں ان کے بارے میں میں یہی کہوں گا کہ وہ اردو کی تاریخ نہیںجانتے۔  کاش وہ پڑھے لکھے ہوتے اور اردو سے واقف ہوتے۔  اگر لوگوں کو آزادی کی جد و جہد کے بارے میں معلوم ہوتا تو وہ نہ تو اردو کی مخالفت کرتے اور نہ ہی مسلمانوں کی۔  غلام نبی آزاد نے اردو کی ترقی اور فروغ پر اظہار ِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں اس کا سہرا حکومتوں کے نہیں بلکہ فلموں کے سر باندھتا ہوں، ان کی وجہ سے اردو کا فروغ ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ہندوستان کی 93فیصد فلمیں اردو میں ہوتی ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ ان کو ہندی کا سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے۔

جبکہ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر سلمان خورشید نے کہا کہ ثقافتی تنوع، قومی یک جہتی اور ملکی ہم آہنگی کے لئے اردو ناگزیر ہے۔  اردو کے بغیر اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب مکمل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی ملک میں فرقہ وارانہ یگانگت قائم ہوسکتی ہے۔  انھوں نے بھی اردو کی مخالفت کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اردو کی مخالفت اپنی مشترکہ تہذیب کی مخالفت ہے۔

خیال رہے اس کانفرنس کا انعقاد مولانا آزاد کے یوم پیدائش پر کیا گیا اور اس میں ملک و بیرون ملک کی متعدد اردو شخصیات نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ اس موقع پر پورے ملک میں مولانا آزاد کا یوم پیدائش یوم تعلیم کے طور پر منایا جا رہا ہے۔