برلن کے قریب پوٹس ڈیم میں سیاروں سے متعلق سائنس کی یورپی کانفرنس میں پیش کیے جانے والے تحقیقاتی مواد سے ظاہر ہوا ہے کہ شمسی نظام کے سب سے بڑے سیارے مشتری کے مدار میں 1949ء اور 1961ء کے درمیان 147 پی کوشیدا/ماٹسونامی ایک سیارچہ عارضی طورپر موجود رہا تھا۔

ماہرین نے کہا ہے کہ یہ اب تک معلوم ہونے والا پانچواں ایسا سیارچہ ہے۔

سیارچے نظام شمسی میں تنہا گھومنے والے وہ اجرام ِفلکی ہوتے ہیں جو کبھی کبھی سورج کے گرد کئی عشروں یا کبھی کبھی صدیوں میں اپنا ایک چکر مکمل کرتے ہیں۔

کبھی کبھار برف اور مٹی سے بنے یہ اجرامِ فلکی کسی ایسے سیارے کے اتنے قریب سے بھی گزر سکتے ہیں جہاں وہ اس کی کشش ثقل کے اثرات میں آکر اس کے گرد گردش کرنے لگتے ہیں۔

کبھی کبھی یہ سیارچے ٹوٹ پھوٹ کر ان سیاروں پر گرکر بکھر جاتے ہیں۔ جیسا کہ 1994ء میں شومیکرلیوی نائین سیارچے کا مشہور واقعہ پیش آیاتھا جس کے ٹکڑے ٹوٹ کر مشتری میں بکھر گئے تھے۔

اب تک جتنے عارضی سیارچوں کی نشان دہی ہوئی ہے، ان میں سے اکثر سیارے کے مدار کے گرد اپنا چکر مکمل کرنے سے پہلے ہی باہر نکل گئے تھے۔

ٹوکیومیٹرو نیٹ ورک میں ہونے والی اس تحقیق کے مطابق جس کی قیادت کاتشیوتو اوتسوکا نے کی تھی، کوشیدا مورا ماٹسو نے مشتری کے مدار کے سے نکلنے سے قبل اس کے گرد دوباقاعدہ چکر مکمل کرنے کے بعد ایک بےقاعدہ چکر لگایا تھا۔

شمالی آئرلینڈ فلکیاتی مرکز کے ڈیوڈ اشر، جنہوں نے ریسرچ کے نتائج پوٹس ڈیم میں پیش کیے تھے، کہتے ہیں کہ ان کے تحقیق کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مشتری کے مدار کے گرد عارضی سیارچوں کے چکروں کے واقعات توقع سے کہیں زیادہ تعداد میں ہوسکتے ہیں۔

فزکس ڈاٹ اورگ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس تحقیق کی مدد سے زمین پر سیارچوں کے اثرات کے خطرے کی سمجھ بوجھ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ سیارچوں کا زمین سے ٹکرانا انتہائی مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ساڑھے چھ کروڑ سال قبل ایک شہابیے کے زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں ڈائنوساردنیاسے ناپید ہوگئے تھے۔

مشتری کو اکثر اوقات ایک گول کیپر سیارہ سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ یہ نظامِ شمسی کے باہری حصوں سے آنے والوں سیارچے کو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنی کشش میں جکڑ لیتا ہے۔

تاہم کبھی کبھی مشتری اپنے قریب سے گذرنے والے سیارچوں کا رخ موڑ بھی سکتا ہے اور سورج کے گرد کے ان کے راستوں کو تبدیل کرسکتا ہے۔

لہٰذا اس طریقے کو سمجھنے سے ماہرین فلکیات کو ان سیارچوں سے زمین کو لاحق خطرات کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔