امریکہ کے خلائى ادارے ناسا نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے مریخ پر پھنسے ہوئی ’سپرٹ‘ نامی اس مریخ گاڑی کو آزاد کرانے کی ایک نئى کوشش کرے گا جو پچھلے چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے سُرخ سیّارے کی نرم ریت میں دھنسی ہوئی ہے۔
مریخ کی سیاحت کے لیے ناسا کے ڈائریکٹر ڈگ میک کُوئى شن نے جمعرات کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ غالب امکان یہ ہے کہ وہ سِپرٹ کو آزاد نہیں کراسکیں گے۔
ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریخ گاڑی اپریل میں اُس وقت ریت میں جا پھنسی تھی جب وہ مریخ کی سخت سطح والے مقام سے آگے نکل گئى تھی اور اُس کے پہیے سفوف جیسی ریت میں دھنس گئے تھے۔

nasa.gov
سپرٹ مریخ کی سطح پر
مریخ گاڑی کو ریت سے نکالنے کے لیے شروع میں جو کوششیں کی گئیں، اُن کے نتیجے میں وہ ریت میں مزید دھنستی چلی گئى۔لہذا ناسا کی ٹیم نے اپنی کوششیں معطل کردیں اور پھر ’سپرٹ‘ کو ریت سے نکالنے کا کوئى بہتر طریقہ معلوم کرنے کے لیے زمین ہی پر مختلف طریقوں کی آزمائشیں کی گئیں۔
سِپرٹ اور اُس کی ساتھی آپرٹیونٹی2004ء سے مریخ پر ہیں۔اُن کے لیے مریخ کی سیاحت کا عرصہ شروع میں صرف 90 دن مقرر کیا گیا تھا۔
