امریکی ریاست واشنگٹن میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے امریکی خلائی ادارے ناسا کی طرف سے خلائی لفٹ کا نمونہ بنانے کا مقابلہ جیت لیا ہے جس کے تحت انھیں لفٹ بنانے کے لیے نو لاکھ ڈالر ملیں گے۔
مقابلے میں حصہ لینے والوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ایک ایسی مشین کا ابتدائی ماڈل تیار کریں جو مستقبل میں انسانوں کو زمین سے خلا میں ایک ایسی تار کی مدد سے لے جائے جس کا ایک سرا زمین پر ہو اور دوسرا خلا میں گردش کرتے ہوئے مصنوعی سیارے سے منسلک ہو۔
اس خلائی لفٹ کا خیال سائنس فکشن ناولوں میں بہت عرصے سے موجود تھا، لیکن اب تک اس قسم کی لفٹ بنانا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
لیزر موٹیو نامی کمپنی نے ایک ہیلی کاپٹر سے بندھی ہوئی تار کے ذریعے ایک روبوٹ کو فضا میں ایک کلومیٹر تک بلند کرنے کا کامیاب تجربہ کیا۔ کمپنی نے مشین کے نیچے فوٹوولٹائک سیل نصب کیے تھے، جن پر زمین سے لیزر شعاعیں ڈال کر اسے توانائی فراہم کی گئی تاکہ وہ اپنا بلندی کا سفر طے کر سکے۔
انعام جیتنے کے لیے تیز ترین کوشش تین منٹ اور 48 سیکنڈ پر محیط تھی۔
یہ ناسا کی طرف سے اپنی نوعیت کا تیسرا مقابلہ تھا۔ تاہم اس سال اسے پہلی بار جیتا گیا ہے۔
ابھی تک کوئی ادارہ ناسا کا اعلان کردہ 11 لاکھ ڈالر کا انعام نہیں جیت سکا، جس کی شرط ایسی لفٹ کا ماڈل بنانا ہے جو بلندی پر تین منٹ سے کم وقت میں پہنچ جائے۔
لیزموٹیو کا کہنا ہے کہ اسے مکمل خلائی لفٹ بنانے کے لیے ابھی کئی منزلیں طے کرنی ہیں۔ تاہم کمپنی نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس کی لیزر ٹیکنالوجی سے کئی دوسرے قسم کے آلات میں بھی استعمال کیا جا سکتی ہے، مثال کے طور پر بلاہواباز ڈرون جہاز۔

