پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی شریکِ حیات کو علاج کے لیے لے جانے والے طیارے نے چنائی میں ہنگامی لینڈنگ کی، جس کے بعد انہیں ایک مقامی ہاسپٹل میں داخل کرا دیا گیا، جہاں ان کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

طیارہ لاھور سے سنگاپور جا رہا تھا لیکن راستے میں ہما اکرم کی طبیعت بگڑ جانے پر طیارے کو ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔چنائی کے ہاسپٹل میں ہما اکرم کو انتہائی نگہداشت والے یونٹ میں رکھا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ محترمہ ہمااکرم ماہر نفسیات ہیں اور وہ دماغ کے عارضے کا شکار ہیں،انہیں برین ٹیومر کا عارضہ لاحق ہے۔ لاہور کے ایک ہاسپٹل میں ان کا علاج چل رہا تھا۔طبیعت کے مزید بگڑ جانے پر ڈاکٹروں نے مزید علاج کے لیے سنگاپور کے ایک کارپوریٹ ہاسپٹل سے رجوع کیا تھا۔

وسیم اکرم نے شریک حیات کی منتقلی کے لیے ایک ایر ایمبولنس کرائے پر حاصل کیا جس میں ان کے برادرِ نسبتی، ایک ڈاکٹر، نرس اور ایک مددگار سفر کر رہے تھے۔سنگاپور پرواز کے دوران شام تقریباً چار بجے طیارہ میں ہماا کرم کی حالت بگڑ گئی۔ اس وقت طیارہ چنائی پر سے پرواز کررہا تھا۔طیارے میں سوار ڈاکٹر نے کیا کہ اگر فوری طبی امداد نہیں دی گئی تو سنگاپور کے چار گھنٹے کے سفر تک زندہ رہنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ پائلٹ نے فوری ایر ٹریفک کنٹرولر کو اس کی اطلاع دی۔ایر ٹریفک کنٹرول کے حکام نے وزارتِ خارجہ اور شہری ہوابازی سے اجازت حاصل کرتے ہوئے ہنگامی لینڈنگ کی اجازت دی۔

تازہ اطلاعات کے مطابق ہما اکرم کی حالت ٹھیک نہیں ہے اور وہ ابھی تک سی سی یو میں ہیں۔ وسیم اکرم نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے شائقینِ کرکٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی اہلیہ کی بحالیِ صحت کے لیے دعا کریں۔