پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کی ہنگامی امداد کے کوارڈینیٹرجان ہومز نے جمعے کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مالاکنڈ ڈویژن سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کا عمل مکمل طور پر رضا کارانہ ہونا چاہئیے اور واپسی سے قبل متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی کے انتظامات تسلی بخش اور پانی بجلی کی بنیادی سہولیات موجود ہونی چاہئیں۔ اُن کے بقول اگر ایسا ہوتا ہے تو اقوامِ متحدہ چاہے گی کہ بے گھر افراد جلداز جلد اپنے علاقوں میں واپس چلے جائیں۔ جان ہومز نے کہا کہ انھیں معاملات پر اُن کی حکومت سے بات چیت ہو رہی ہے۔
جان ہومز نے کہا کہ اُنھیں لڑائی سے متاثرہ مالاکنڈ ڈویژن کے ضلع بونیربھی جانے کا موقع ملا جہاں مقامی حکام نے اُنھیں بتایا کہ لڑائی کے دوران علاقہ چھوڑ کر جانے والوں میں نصف سے زائد خاندان اپنے گھروں کو واپس آچکے ہیں جس سے واپسی کے خواہش مند دوسرے افراد کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی اور اقوام متحدہ متاثرین کی بحالی کے اس عمل میں پاکستان کی مدد کے لیے تیار ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع کی صورت حال کے بارے میں کچھ کہنے سے قاصر ہیں کیونکہ نہ تو وہ خود اورنہ ہی اقوام متحدہ کے ادارے اب تک وہاں جا سکے ہیں۔ اُنھوں نے ایک بار پھر اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان میں مون سون بارشوں کا موسم آنے والا ہے جس سے کیمپوں میں رہنے والے افراد کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔
ایک سوال کے جوا ب میں عالمی ادارے کے اعلی عہدیدار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے مالاکنڈ ڈویژن کے متاثرین کے لیے 54 کروڑ ڈالر سے زائد کی عالمی اپیل کے جوا ب میں اب تک دو کروڑ30لاکھ ڈالر امداد ملی ہے جو صرف آئندہ چندہفتوں کے لیے کافی ہے۔ اُنھوں نے عالمی برداری سے ایک بار پھر اپیل کی کہ وہ فراخ دلانہ اور جلد مزید امداد دیں تاکہ جنگ سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے مقررہ اہداف کو پورا کیا جاسکے۔
جان ہومز نے اعتراف کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن کے بے گھر افراد کے لیے اُس طرح امداد نہیں کی گئی جس طر ح پاکستان میں اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے بعد عالمی اور مقامی سطح پرمتاثرین کی امداد کی گئی تھی۔ اُن کے بقول شاید عالمی برادری سمجھتی ہے کہ یہ قدرتی آفت نہیں بلکہ خودانسان کا پیدا کیاہو ا بحران ہے۔
خیال رہے کہ حکومت نے لڑائی سے متاثرہ خاندانوں کو13 جولائی سے اُن کے گھروں کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان افراد کی سلامتی اور اُنھیں ضروریات زندگی فراہم کرناحکومت کی اولین ترجیح ہو گی۔


