انڈونیشیا میں ٹرانسپورٹ سے متعلق حکام نے کہا ہے کہ اتوار کے روز جزیرہ سماٹرا کے قریب ایک فیری کے ڈوب جانے کے حادثے میں کم سے کم 25 لوگ ہلاک ہوگئے۔ لیکن 240 سے زیادہ مسافروں کو بچا لیا گیا۔
زندہ بچ جانے والے مزید لوگوں کی تلاش کے کام کو پیر کی صبح سورج نکلنے تک ملتوی کردیا گیا۔
یہ واضح نہیں کہ کشتی میں کُل کتنے مسافر سوار تھے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ہوسکتا ہے کشتی میں 273 افراد کی گنجائش سے زیادہ لوگ سوار ہوں۔
حکام نے کہا ہے کہ فیری دُومائى ایکسپریس 10 اتوار کی صبح باٹام کے جزیرے سے رایو صوبے کو جاتے ہوئے غرق ہوئى۔
انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ اتوار ہی کے روز ایک اور فیری دُومائى ایکسپریس 15، جس میں 278 لوگ سوار تھے ، باٹام سے جزیرہ مورو جاتے ہوئے ایک بہت بلند لہر کی زد میں آنے کے بعد ساحلی ریت میں جا دھنسی۔ حکام نے کہا ہے کہ اس کشتی کے تمام مسافر اور عملے کے افراد بچ گئے ہیں۔
انڈونیشیا میں، جو ہزاروں جزیروں پر مشتمل ملک ہے، کشتیاں سفر کا ایک اہم وسیلہ ہیں۔ تاہم خراب موسم، ناقص زیریں ڈھانچے اور کشتیوں میں گنجائش سے زیادہ مسافر یا سامان بھرنے کے باعث وہاں سمندر میں اکثر اس قسم کے حادثے ہوتے رہتے ہیں۔


