ہفتے کے روز ایران کے ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر نے کہا ہے کہ ملک کی دفاعی فورسز آئندہ ہفتے کے دوران فضائی دفاعی مشقیں کریں گی۔ 

جمعے کے روز چھ عالمی طاقتوں نے ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کے اس معاہدے کے مسودے کو قبول کرنے سے انکار کیا جس کے تحت اسے اپنی کم تر سطح کے افزودہ یورینیم کا 80 فی صد مزید افزودگی کے لیے بیرون ملک بھیجنے کےلیے کہا گیا ہے۔  ایران کا یہ اعلان اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔


اب جب کہ دنیا تہران  اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر اب تک کے بے نتیجہ  مذاکرات  کے اس کے  اگلے قدم کا انتظار کررہی ہے، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایران فوجی اور سفارتی، دونوں محاذوں پر کھیل رہاہے۔


ایران کے ایک اہم فضائی دفاعی مرکز کے کمانڈر بریگیڈئیر جنرل احمد مغانی نے ایک پریس کانفرنس کوبتایا کہ پاسداران انقلاب اور باقاعدہ مسلح افواج کے دستے ایران کی جوہری تنصیبات  پر فرضی دشمن کے حملوں کے خلاف دفاع کے لیے سالانہ جنگی مشقوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔


ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق جنرل نے یہ بات زور دے کر کہی کہ تہران ایک خالصتاً فوجی دفاعی فلسفے پر عمل پیرا ہے۔  انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کی نوعیت تبدیلی ہوچکی ہے اور یہ کہ ان کی فورسز نئی حکمت عملیوں کی جانچ کررہی ہیں۔


انہوں نے بتایا کہ اتوار کے روز مرکزی، مغربی اور جنوبی ایران میں مشقوں اور فرضی جنگی مشقوں کا ایک بڑا سلسلہ پانچ روزہ سلسلہ شروع ہوگا جس میں اس کی تنصیبات پر کسی حقیقی حملے کی نقل ہوگی۔


انہوں نے کہا کہ یہ جنگی مشقیں مرکزی، مغربی اور جنوبی ایران کے مختلف حصوں میں تقریباً 6 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط علاقے میں ہوں گی اور ان میں ہتھیاروں کے مختلف اور نئے نظام استعمال ہوں گے۔  اس کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک جنگی مشقوں میں استعمال ہونے والے  مواصلاتی نظاموں کو بھی پرکھا جائے گا۔


اسی دوران ایران کے اعلیٰ عہدے داروں نے مغرب کے ساتھ سفارتی داؤ پیچ جاری رکھے۔   ہفتے کے روز ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متکی نے فلپائن کے ایک دورے پر روانگی سے قبل نامہ نگاروں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کا تیارکردہ معاہدے کا مسودہ غیر منطقی ہے۔


مشرق وسطیٰ کے میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ترکی اور ایران یورینیم کے تبادلے کے لیے نقل و حمل کے طریقوں پر بات چیت کررہے ہیں۔  ترک وزیر خارجہ ایران کے دورے پر تھے۔


تل ابیب کے میپس سینٹر کے میر جاویدانفار کہتے ہیں کہ ایران مغرب کو خبردار کررہاہے کہ وہ کسی ممکنہ فوجی حملے یااقتصادی پابندیوں دونوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


جمعے کے روزامریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سینئیر عہدے داروں نے ایران کے جوہری پروگرام پر جمعے کے روز ایک اجلاس میں اس بارے میں مایوسی کا اظہار کیا کہ تہران نے اس معاہدے کو قبول نہیں کیا جس کا مقصد اسے جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا ہے۔


اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد البرادئی نے جمعے کے روز ایران پر زور دیا کہ وہ جوہری معاہدے کےاس مسودے کو قبول کرلے جو اس وقت زیر ِ بحث ہے۔  انہوں نے اس معاہدے کو ایک منفرد اور موجودہ صورت حال میں ایک بہتر موقع قراردیا۔