ایران نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ گذشتہ مہینے مصر میں ہونے والی ایٹمی اسلحے کی کانفرنس کے دوران ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہوئے تھے۔
بین الاقوامی تخفیف اسلحہ کی بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی یہ کانفرنس 29 سے 30 ستمبر کو قاہرہ میں منعقد ہوئی تھی۔
اسرائیل کے ایک سرکردہ اخبار نے جمعرات کے روز انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی اور ایرانی وفود نے کانفرنس کے دوران براہِ راست ایک دوسرے سے رابطہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ روئٹرز خبررساں ادارے نے ایک اسرائیلی عہدے دار کے حوالے سے کہا تھا کہ قاہرہ میں ہونے والی یہ ملاقات براہِ راستہ مکالمہ تھا۔ دونوں اداروں نے اپنی معلومات کا ذریعہ نہیں بتایا۔
ایرانی ایٹمی توانائی کے ادارے کے ایک ترجمان علی شیرزادیان نے جمعرات کے روز ایرانی اور اسرائیلی نمائندوں کے درمیان کسی قسم کی بات چیت تردید کی۔ شیرزادیان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کے نزدیک اسرائیل کا وجود ’ناجائز‘ ہے۔
اسرائیلی حکام نے جمعرات کے روز کہا کہ ایرانی اور اسرائیلی مندوبین نے دوسری اقوام کے ساتھ گفت و شنید میں اکٹھے حصہ لیا تھا اور ایٹمی اسلحے کے موضوع پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
فرانسیسی خبررساں ادارے نے بغیر نام بتائے ہوئے ایک مصری عہدے دار سے منسوب کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے کہ اسرائیل اور ایران نے ’راؤنڈ ٹیبل‘ اور ’کراس ٹیبل‘ مذاکرات میں حصہ لیا تھا
ایرانی حکومت 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی۔ خیال کیا جاتا ہے مشرقِ وسطی میں اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس کے پاس ایٹمی اسلحہ ہے۔ تاہم اسرائیل اس بات کی تصدیق یا تردید سے گریز کرتا ہے۔

