افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اقوام متحدہ کے زیر استعمال ایک گیسٹ ہاؤس پر مسلح جنگجوؤں کے حملے میں عالمی ادارے کے چھ غیر ملکی عہدیدار ہلاک اور نو زخمی ہو گئے ہیں تاہم ہلاک ہونے والوں کی شہریت کے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ مشن کے سربراہ نے بتایا ہے کہ عالمی ادارہ گذشتہ کئی دہائیوں سے افغانستان کی خدمت کر رہا ہے اور گیسٹ ہاؤس پرعسکریت پسندوں کا حملہ اقوام متحدہ پر نہیں بلکہ افغان قوم پرحملے کے مترادف ہے۔

طالبان کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو ٹیلی فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو”منتشر“ کرنے جانب یہ پہلا قدم ہے ۔

اقوام متحدہ کے ایک عہدیدا ر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بد ھ کوعلی الصباح مسلح حملہ آوروں نے گیسٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہوئے جس کے بعد سکیورٹی فورسز اورعسکریت پسندوں کے درمیان کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔  حملہ کرنے والے تینوں عسکریت پسندوں نے خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں اوراُنھیں کئی گھنٹے کے لڑائی کے بعد مار دیا گیا ہے۔

دریں اثنا کابل کے بین الاقوامی سرینا ہوٹل میں راکٹوں سے حملہ کیا گیا تاہم اس حملے میں کو ئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملے کے وقت ہوٹل میں 100 کے قریب مہمان موجو دتھے جنہیں راکٹ حملے کے بعد ہوٹل کے اندر زیر زمین بنکر میں پہنچا دیا گیا۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں کابل سمیت ملک کے دیگر حصوں میں عسکریت پسند غیر ملکی فوجیوں اور اُن کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے علاوہ سرکاری دفاتر کو بھی نشانہ بناتے آئے ہیں۔