کراچی کی ایک نئی آرٹ گیلری ”آرٹ چوک “ میں ان دنوں دو بلوچ بھائیوں کے فن پاروں کی نمائش شائقین کی توجہ کا مرکز ہیں ۔ آوٴٹ آف بلوچستان نامی اس نمائش میں بلوچستان کے دور دراز کے علاقے نوشکی میں پروان چڑھنے والے ان بھائیوں اکرم دوست بلوچ اور جمیل بلوچ نے اپنے اردگرد کی تمام پیچیدگیوں کو بہت خوبصورتی سے کینوس پر منتقل کیا ہے ۔ اپنی شناخت کے لیے جدوجہد ، روایتی قدریں اور روشن خیالی کے درمیان تناوٴ ، معاشرے میں عورت کا کردار اور اس سے برتا جانے والا رویہ ان کے فن پاروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔
جمیل بلوچ لاہور میں مقیم ہیں اور نیشنل کالج آف آرٹس کے شعبہ فائن آرٹس میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ” میرا جتنا بھی کام ہوتا ہے وہ سیاسی، سماجی اور ماحولیاتی مسائل پر ہے جو میں اپنے اردگرد محسوس کرتا ہوں تو ان کو براہ راست سامنے لانے کی بجائے میں علامتوں کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ “
جمیل بلوچ ہر میڈیم میں کام کرتے ہیں اور ان کہنا ہے کہ ایک آرٹسٹ اپنے کام میں میڈیم کی حدود کا پابند نہیں ہے ۔اپنے فن پاروں میں استعمال کی گئی علامتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انھیں مرغے پالنے کا بچپن سے شوق رہا ہے اور” میں اپنے کام میں اسے ایک لیڈر کے طور پر پیش کرتا ہوں ۔“ ان کے بقول جو بات مجھے اس کی سب سے اچھی لگتی ہے وہ اس کا لوگوں کو بیدار کرنا ہے ۔ صبح سویرے اٹھنا اذان دینا ۔ باقی پرندوں کے ساتھ آپ اس کا موازنہ کریں تو اس کا چلنے کا اپنا انداز ہے یعنی وقار کے ساتھ سینہ تان کر چلنا ۔ یہ میری سوچ ہے۔ باقی جو تاریکی ہے سلاخیں ہیں وہ یہ بتا رہی ہیں کہ ہمیں ان حالات میں ایک الگ لیڈر کی ضرورت ہے جو ہمیں وہ روشنی دلاسکے ۔
برقعے میں موجود خاتون کے ہاتھ میں پھول ، سلاخوں کے بیچھے کھڑی خاتون اور کہیں دور روشنی ۔ ان کے یہ فن پارے بین الاقوامی شہرت حاصل کرچکے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا تمام کام امید سے تعبیر کیا ہے۔ ایک طنز بھی ہے۔ ایک خواہش بھی ہے کہ شاید ہماری خواتین کو بھی یہ حقوق نصیب ہوں ۔
میرے کام میں صرف بلوچستان نہیں پورے پاکستان میں موجود سیاسی و سماجی مسائل کی منظر کشی ہے۔” میں آرٹسٹ ہوں اور میرا کام کسی علاقے تک محدود نہیں لیکن جہاں آپ رہتے ہیں وہاں کا رنگ آپ کے کام میں جھلکتا ہے ۔ 62 سال ہوگئے لیکن بلوچستان کے لوگ آج بھی غاروں میں رہ رہے ہیں ۔آبادی لاہور سے بھی کم ہے مگر وسائل اتنے ہیں کہ چین جیسے ملک کو بھی چلا سکتے ہیں ۔ میں اپنے مسائل پر آواز اٹھانا اپنا فرض سمجھتا ہوں جسے اداکرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔“

