بھارتی کشمیر میں علحدگی پسند پارٹیوں کے سب سے بڑے اتحاد کے لیڈر نے کہا ہے کہ ہمالیہ کے اس متنازع خطے میں قیامِ امن کے ساتھ چین کا مفاد وابستہ ہے۔
میر واعظ عمر فاروق نے جمعے کے روز کہا ہے کہ چین کا کشمیر کے ساتھ ایک براہ راست تعلق ہے ۔ اس لیے کہ اس خطّے کے کچھ علاقے چین کے کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے سری نگر کی اُس مسجد میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے ، جہاں وہ امامت کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔
علحدگی پسند مسلمان لیڈر شاذو نادر ہی اُس علاقے میں چین کے عمل دخل کا ذکر کرتے ہیں جو بیشتر بھارت اور پاکستان کے درمیان بٹا ہوا ہے۔
علحدگی پسند اتحاد آل پارٹیز حرّیت کانفرنس کے لیڈر نے اس ہفتے کے شروع میں امریکی صدر براک اوباما اور اُن کے چینی ہم منصب ہو چھن تاؤ کے اُس مشترکہ بیان کا بھی خیر مقدم کیا ہے، جس بھارت اورپاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کی حمایت شامل ہے۔
بھارت نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ اُسے اپنے ہمسائے کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے مدد کی ضرورت نہیں ہے۔
حرّیت کے لیڈر نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی چین کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


