پولیس حکام نے بتایا ہے کہ پیر کی شام لاہور میں موٹر وے کے بابو صابو انٹرچینج پر پولیس کے ناکے پر ایک مشتبہ گاڑی کو معمول کی چیکنگ کے لیے جب روکا گیا تو اس میں موجود دو عسکریت پسندوں نے اپنے آپ کو بم سے اڑا دیا۔

پولیس کے مطابق اس دھماکے سے دونوں عسکریت پسند موقعے پر ہلاک ہو گئے جب کہ پولیس اہل کاروں سمیت 15 افراد زخمی ہو گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے تین افراد شدید زخمی ہیں۔

پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس طارق سلیم ڈوگر نے اس موقعے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے جوانوں نے شہر میں کسی بڑی ممکنہ واردات کو وقوع پذیر ہونے سے روک کر فرض شناسی کا جو ثبوت دیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ قربانیاں وطن کے لیے ہیں اور ہم مسلح افواج کے ساتھ ساتھ پولیس بھی کسی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

پولیس کے مطابق حملے میں سفید رنگ کی مہران گاڑی استعمال کی گئی تھی، جس کی انھیں پہلے ہی سے اطلاع تھی۔

واضح رہے کہ پیر ہی کی صبح راولپنڈی کی فوجی چھاؤنی میں ہونے والے ایک اور بم دھماکے میں 35 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔