اقوامِ متحدہ کی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ جنوبی لبنان میں پراسرار دھماکوں کا باعث وہ اسرائیلی آلات تھے جو اس نے حزب اللہ کے خلاف جنگ کے دروان نصب کیے تھے۔
لبنان میں تعینات اقوامِ متحدہ کی امن فوج نے کہا ہے کہ اس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق دو دھماکوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ زیرِ زمین نصب کیے جانے والے سینسر آلات کے پھٹنے سے ہوئے تھے۔ فوج کے مطابق یہ آلات اسرائیلی فوج نے ان سرحدی قصبوں میں 2006ء میں نصب کیے تھے۔
لبنانی فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں جب لبنانی فوج نے جنوبی لبنان کے سرحدی قصبوں حولا اور مائز الجبل میں یہ جاسوس آلات ڈھونڈ نکالے تو یہ دھماکے سے پھٹ گئے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا یہ آلات خود کار طریقے سے پھٹے یا ان کا سراغ لگنے کے بعد انھیں ریموٹ کنٹرول کے نظام کے تحت تباہ کیا گیا۔
حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر جاسوسی آلات نصب کرنے کا الزام لگایا ہے۔
اس کے جواب میں اسرائیل کی فوج نے اتوار کی رات ایک بیان جاری کیا جس میں حزب اللہ پر الزام لگایا گیا کہ وہ ایک ماہ طویل جنگ کے دوران اس کی جانب سے کی جانے والی اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں پر سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان 2006ء میں 34 روزہ جنگ ہوئی تھی جس میں لبنان کے 1200 افراد اور 160 اسرائیلی مارے گئے تھے۔

