بھارت کے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ اس بارے میں مذاکرات کے لیے اتوار کے روز واشنگٹن  پہنچ گئےہیں کہ دو نوں  ملک آنے والے برسوں میں  نازک اہمیت کے مسائل پر کس طرح مل کر کام کریں گے۔


مسٹر سنگھ نے پیر کے روز امریکہ کے ایوانِ ِ تجارت میں امریکہ کی کاروباری شخصیتوں سے خطاب کیا۔  انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکہ اس سمجھوتے کی تفصیلات کو آخری شکل  دے رہے ہیں جس سے ان کے درمیاں غیر جوجی جوہری تعاون کے معاہدے پر پوری طرح عمل شروع ہو جاتے گا۔  صر باراک اوباما منگل کے روز وہائیٹ ہاوس میں وزیر اعظم سنگھ کا استقبال کریں گے۔

یہ اوباما کے دور ِصدارت میں کسی بیرونی لیڈر کا امریکہ کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔


توقع ہے کہ مسٹر سنگھ اور  مسٹر اوباما افغانستان کی صورتِ حال پر بھی غور کریں گے۔   نئى دہلی نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں جنگ کی وجہ سے  جوہری ہتھیاروں سے مسلح اُس کے ہمسائے اور دیرینہ حریف پاکستان  میں عدم استحکام  بڑھ سکتا ہے۔


مسٹر سنگھ نے تین روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچنے سے پہلے  سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ واضح نہیں کہ افغانستان میں پاکستان کے مقاصد وہی ہیں جو امریکہ کے ہیں۔  انہوں نے اس بارے میں  بھی تشویش ظاہر کی کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔


بھارتی لیڈر نے اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی لیڈروں کو اس بات پر آمادہ کرنے کی اُمیدرکھتے ہیں کہ وہ بھارت مزید غیر فوجی جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کی اجازت دیں اور  صاف سُتھری توانائى کے حصول  کے لیے مسائل کرنے میں  مزید تعاون کریں۔