اِس سال آسکر ایوارڈ کے لیے بھارت کی جانب سے مراٹھی فلم ‘ ہریش چندراچی فیکٹری’ کو نامزد کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ مراٹھی زبان کے اسٹیج ایکٹر اور ہدایت کار پریش موکاشی کی یہ پہلی مراٹھی فلم ہے جِس نے قومی سطح کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی فلمی ناقدین کو بےحد متاثر کیا ہے۔
فلمساز موکاشی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اُن کی فلم ہریش چندراچی فیکٹری کو فلم فیڈریشن آف انڈیا نے اِس سال بھارت کی جانب سے غیر ملکی زبان کی فلموں کے زمرے میں آسکر کے لیے نامزد کیا ہے۔ پرانے دور کی مشہور ہیروئین آشا پاریکھ کی سربراہی میں قائم فلم فیڈریشن آف انڈیا کی جیوری نے اِس بات کا اعلان کیا۔
فلم ہریش چندراچی فیکٹری کی کہانی ہندی فلموں کے روح رواں دادا صاحب پھالکے کے بھارت کی پہلی فیچر فلم راجا ہریش چندرا کو بنانے کے لیے کی گئی جدوجہد پر مبنی ہے۔ واضح رہے کہ دادا صاحب پھالکےنے 1939ء میں دو گھنٹے طویل بھارت کی پہلی فیچر فلم بنائی تھی۔
بالی وڈ کی ہٹ فلمیں نیویارک اور دلی سمیت چودہ فلموں کو مات دے کر مراٹھی ہٹ فلم ہریش چندراچی فیکٹری نے آسکر کے لیے تاریخی نإمزدگی حاصل کی ہے۔ فلم ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے ملک میں علاقائی زبان کی فلموں کو فروغ ملے گا۔
پچھلے برس دسمبر میں مکمل ہونے والی اِس مراٹھی فلم کو کئی بین الاقوامی خطاب بھی مل چکے ہیں۔ موکاشی کے مطابق آسکر کے دوران فلم ہریش چندراچی فیکٹری کے تشہیری کاموں کے لیے وہ بالی وڈ ایکٹر عامر خان اور سپر ہٹ فلم لگان کے ڈائریکٹر آشوتوش گواریکر کی مدد لیں گے۔
بہت جلد بھارت میں بھی یہ فلم ریلیز کی جائے گی۔
خیال رہے کہ ممبئی کی جھوپڑپٹیوں کے پس منظر میں بننے والی سپرہٹ فلم سلم ڈاگ ملینئیر نے اس سال فروری میں منعقد آسکرز کی تقریب میں آٹھ ایوارڈ جیت کر بھارتی فلموں کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔


