1967ءکے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ شمالی اسرائیل میں ایک مذہبی اقلیت دروز کی خواتین کو شام کی سرحد کے پار سالانہ زیارت کی اجازت دی گئی ہے۔

500 سے زیادہ دروز نے، جن میں لگ بھگ چالیس خواتین شامل تھیں، جمعرات کی صبح بین الاقوامی ریڈ کراس کی مدد سے سرحد عبور کی۔ ان کی واپسی پانچ دن میں ہو گی۔

دروزمذہبی اقلیت 1967ء کی اس چھ روزہ جنگ کے بعد دو حصوں میں بٹ گئی تھی، جس میں  اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

شام اور اسرائیل تکنیکی اعتبار سے حالتِ جنگ میں ہیں اور ان کےدرمیان سفارتی یا تجارتی رابطے نہیں ہیں۔ گذشتہ برسوں میں اسرائیل نے مذہبی مرد راہنماؤں کو دروز پیغمبر ہابیل کے مقبرے کی زیارت کی اجازت دی تھی۔ لیکن اس سال پہلی بار وزارتِ داخلہ نے عورتوں کو بھی اس گروپ میں شمولیت کی اجازت دی ہے۔