20 جولائی کو چاند پر انسان کے پہلے قدم کی 40 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ اس موقع پر کریگ نیلسن کی ایک نئی کتاب ’راکٹ مین‘ شائع ہوئی ہے جس میں چاند پر پہلے انسانی مشن تک کے دور کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔نیلسن نے اپالو 11 کے بارے میں کچھ ایسے حقائق کا انکشاف کیا ہے جن کے بارے میں لوگوں کی معلومات بہت محدود ہیں۔ popsci.com سمیت متعدد ویب سائٹس نے اس کتاب پر اپنے تبصرے شائع کیے ہیں۔
کتاب میں بیان کیے جانے والے دس دلچسپ ترین حقائق یہ ہیں:
اپالو 11 کو چاند تک لے جانے والے راکٹوں میں اتنا ایندھن موجود تھا جس کی مدد سے ایک سو پونڈ وزنی گولے تین میل کی دوری تک پھینکے جا سکتے تھے اور یہ امکان موجود تھا کہ راکٹ پرواز کے وقت پھٹ بھی سکتے ہیں۔ چنانچہ ناسا نے چاند پر اپالو 11 کی روانگی کے نظارے کے لیے اپنے انتہائی اہم مہمانوں کی نشتوزں کا انتظام لانچنگ پیڈ سے ساڑھے تین میل کے فاصلے پر کیا تھا۔
اپالو 11 میں جو کمپیوٹر استعمال کیے گئے تھے ، ان کے پروسیسر آج کے موبائل فون سے بھی کم طاقت کے تھے۔
اپالو11 میں خلابازوں کے پینے کے لیے جو پانی دستیاب تھا، وہ ایک فیول سیل کی ضمنی پیداوار کے طورپر حاصل ہوتا تھا۔ لیکن چونکہ خلائی راکٹ کے ہائیڈورجن گیس فلٹرز کام نہیں کررہے تھے اس لیے خلابازوں کو ،بلبلوں کی شکل کا پانی پینا پڑتاتھا۔ خلابازوں کو صفر کشش ثقل پر پیشاب اور رفع حاجت کے مسائل کا بھی علم نہیں تھا ۔ اس سلسلے میں پیش آنے والی پریشانیوں سے بچنے کے لیے ایک خلاباز نے پورے مشن کے دوران رفع حاجت سے گریز کے لیے دوا کا استعمال کیا۔
جب اپالو 11 کی چاند گاڑی ایگل چاند کے مدار میں راکٹ سے الگ ہوئی تو اس وقت کیبن میں ہوا کے دباؤ کو پوری طرح ختم نہیں کیا جاسکا تھا ، جس سے گیس کا دھماکا ہوا اور اس کے نتیجے میں چاند گاڑی اپنی مقرر جگہ سے چار میل کے فاصلے پر اتری۔
پائلٹ نیل آرم سٹرانگ کے پاس چاند گاڑی ایگل میں لینڈنگ کے وقت ایندھن تقریباً ختم ہوگیا تھا اور مشن کے کنٹرول کے بہت سے ارکان کو ڈر تھا کہ انہیں کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے۔
چاند پر انسان کا پہلا قدم درحقیقت کوئی چھوٹا قدم نہیں تھا۔ آرم سٹرانگ نے چاندگاڑی کو چاند کی سطح پر اتنی آہستگی سے اتاراتھا کہ اس کے شاکس پرذرا بھی دباؤ نہیں پڑا۔انہیں چاند گاڑی کی سیڑھی سے چاند کی سطح پر اترنے کے لیے ساڑھے تین فٹ کی جست لگانی پڑی۔
جب چاند پراترنے والے دوسرے خلاباز بز ایلڈرین چاندکی سطح پر آرم سٹرانگ کے ساتھ شامل ہوئے تو انہیں یہ یقینی بناناتھا کہ چاند گاڑی ایگل کا دروازہ مقفل نہ ہوجائے کیونکہ دورازے کو باہر سے کھولنے کے لیے کوئی ہینڈل نہیں تھا۔
چاند پر چہل قدمی کے دوران سب سے اہم اور مشکل ترین مرحلہ چاند کی سطح پر امریکی پرچم نصب کرنا تھا۔ ناسا کے جائزوں سے ظاہر ہواتھا کہ چاند کے اس حصے کی سطح بھربھری مٹی کی ہے، لیکن آرم سٹرانگ اور ایلڈرین کو وہاں اترنے کے بعد پتا چلا کہ وہ سطح درحقیقت پتھریلی ہے جس کے اوپر مٹی کی ایک بہت باریک تہہ ہے۔ وہ جھنڈے کے ڈنڈے کو چاند کی سطح پر صرف چند انچ ہی گاڑھ سکے اور دنیا میں براڈ کاسٹ کے لیے اس کی ایک ویڈیو فلم بنائی۔ اور اس کے بعد انہوں نے اس پہلو توجہ دی کہ نصب کیا جانے والا پرچم حادثاتی طورپر اکھڑ نہ جائے۔
چاند پر نصب کیا جانے والا امریکی پرچم سیئرز (Sears)کمپنی نے تیار کیا تھا لیکن ناسا نے کمپنی کا نام ظاہر کرنے سے انکار کردیاتھا ۔
خلابازوں کے لباسوں کے اندر ہوا کے دباؤ کو زمین کی سطح کے مطابق رکھنے والے جو حصےاستعمال کیے گئے تھے وہ چند بوڑھی خواتین کی ایک ٹیم نے اپنے ہاتھوں سے تیار کیے تھے۔جب کہ خلائی جہاز کے کمپیوٹر کے روم چپس(ROM Chips) بھی کسی مشن کی بجائے انسانی ہاتھوں سے بنے ہوئے تھے۔


