امریکہ کے خلائى ادارے ناسا نے کہا ہے کہ پچھلے مہینے ایک تجربے کے ابتدائى نتائج میں چاند پر پانی کی موجودگی کا پتا چلا ہے۔
ناسا کے سائنس دانوں نے جمعے کے روز کہا ہے کہ اس تجربے میں، چاند کے اُن علاقوں میں جو ہمیشہ سائے میں رہتے ہیں، پانی اور دوسرے پوشیدہ مادوں کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوئى ہیں۔
ناسا نے نو اکتوبر کو ایک بڑا اور خالی راکٹ چاند کے قطب جنوبی کی جانب لانچ کیا تھا اور اُس کے چند ہی منٹ بعد اُس مقام سے اُس سائنسی سیارچے کو گزارا گیا تھا، جسے اس تجربے کی تصویریں اُتارنے اور تصادم کے نتیجے میں اُڑنے والی دھول کے نمونے حاصل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے چاند پر راکٹ کے گرنے سے جو مادے خارج ہوئے، اُن میں قمری پانی کی وافر شہادت کا پتا چلا ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ پانی اُس سے کہیں زیادہ مقدار میں اور زیادہ وسیع علاقوں میں موجود ہو جیسا کہ پہلے سمجھا گیا تھا۔
سائنس داں چاند کے قطبین پر بھاری مقدار میں ہائیڈروجن گیس کے مشاہدے کے بعد سے چاند پر پانی کی موجودگی کے بارے میں قیاس آرائیاں کرتے رہے ہیں۔
ناسا کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ چاند پر پانی تلاش کرلینے کے بعد ، وہاں خلا بازوں کے لیے اڈے قائم کرنا آسان ہوجائے گا۔

