بین الاقوامی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ انہیں چاند پر پانی کی موجودگی کےشواہد ملے ہیں۔براؤن یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر کارلی پیٹرس نے یہ دعویٰ جمعرات کے روز ناسا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنی تحقیق کی بنیاد پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ چاند پر تحقیق ہمارے لیے حیرتوں کے مزید دروازے کھول رہی ہے اور اس حوالے سے سب سے اہم دریافت چاند کی سطح پر پانی کی موجودگی ہے۔

بھارتی مصنوعی سیارے چندریان کے ذریعے بھیجے جانے والے امریکی آلات سے حاصل کردہ معلومات اور دو ودسرے خلائی جہازوں سے ان معلومات کی تصدیق سے کہ چاند کی سطح پر ایک وسیع علاقے میں پانی کی موجودگی کا پتا چلا ہے جس کی زیادہ تر مقدار قطبین میں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی سطح کے بہت قریب موجود ہے۔

تاہم کارل پیٹرز کی ٹیم کے دوسرے ارکان جیک مسٹرڈ کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ جس مالیکیول کے آثار ملے ہیں، وہ پانی ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس مالیکیول میں ہائیڈروجن کے دو (H2O) اور آکسیجن کا ایک ایٹم یا پھر ہائیڈروجن اور آکسیجن کا ایک ایک ایٹم ہوسکتا ہے (OH)۔ مسٹرڈ کہتے ہیں کہ موجودہ مواد کی مدد سے اس موقعے پر ان دونوں مالیکیولوں میں فرق کرنا بہت دشوار ہے۔

چاند پر پانی کی موجودگی کا اندازہ لگانے کے لیے صرف وہاں کی مٹی اور چٹانوں کا ہی نہیں بلکہ چاندسے منعکس ہونے والی روشنی کی لہروں کا تجزیہ بھی کیا گیا۔ روشنی کی لہرویں مختلف کیمیائی مادوں کا مختلف نوعیت کا گراف بناتی ہیں۔ لیکن ہائیڈوجن کے دو اور آکسیجن کے ایک اٹیم اور ہائیڈوجن اور آکسیجن کے ایک ایک ایٹم سے بننے والے پانی کی روشنی کا گراف بالکل یکساں ہوتا ہے, جس سے ان دونوں میں فرق کرنا فی الحال بہت دشوار ہے۔ عام استعمال میں آنے والا پانی ہاہیڈوجن کے دو اور آکسیجن کے ایک ایٹم کے اشتراک سے بنتا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ آج سے 40 برس پہلے چاند پر اترنے والے خلاباز وہاں سے سینکڑوں کلو مٹی اور چٹانوں کے نمونے زمین پر لائے تھے، جب کہ وہاں پر پانی کے شواہد اب سامنے آرہے ہیں۔

چاند پر پانی کی موجودگی کے باوجود یہ امکان بہت کم ہے کہ مستقبل میں چاند پر جانے والے انسان اسے اپنے استعمال میں لاسکیں گے۔کیونکہ یہ پانی کسی ایک مقام پر زیادہ مقدار میں موجود نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت دستیاب معلومات کی بنیاد پر چاند کی ایک ٹن چٹانی مٹی سے صرف ایک لیٹر پانی حاصل ہوسکتا ہے۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ پانی کی موجودگی سے چاند اور سیاروں کے وجود میں آنے کے حوالے مزید معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاند پر پانی کی موجودگی کے حوالے سے مزید معلومات چند ہفتوں کے بعد اس وقت حاصل ہوں گی جب ایل کراس نامی ایک خلائی جہاز چاند کے ایک نشیبی علاقے سے ٹکرائے گا جس کے نتیجے میں کئی ٹن ملبہ پیدا ہوگا۔اس ملبے کا سائنسی آلات کے ذریعے تجزیے سےاس میں برف اورآبی بخارات کا پتا چلانے میں مدد ملے گی۔