1.08.08
مسلمانوں کا امریکہ، مسلم امن پسند۔۔۔ دوسری قسط دوسرا حصہ
اِس وقت بہت سے معروف امریکی مسلمان ثقافتی دوریوں کے معاملے سے نبرد آزما ہونے اور اسلام کے پُر امن بقائے باہمی کی روایات کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔
ایسے ہی ایک دانش ورارسلان افتخارہیں، جو ’اسلامیکا میگزین‘کے مدیر اور کالم نویس ہیں۔ وہ امریکی ذرائعِ ابلاغ میں ثقافتی، قانونی اور سیاسی موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتےرہتے ہیں۔وہ نہ صرف انسانی حقوق کے لیے لڑنے والے سرگرم وکیل ہیں بلکہ نیشنل پبلک ریڈیو کے پروگرام میں مہمان کے طور پر شرکت کرتے ہیں۔ وہ امریکہ کے 15اخبارات کے لیے لکھتے رہے ہیں، اور مسلمانوں اور مغربی دنیا کے درمیان حائل خلیج کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
ارسلان کہتے ہیں کہ 57 فی صد امریکی مسلمانوں کے پاس گریجویٹ ڈگری ہے۔ 41فی صد امریکی مسلمان سالانہ 75ہزار ڈالر کماتے ہیں، جو کہ امریکی معیار کے مطابق آمدنی کی اعلیٰ سطح ہے۔
ارسلان کا ایک ہی مقصد ہے، وہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کی مدد کی جائے تاکہ وہ اسلام کےامن کے پیغام کو سمجھیں، اور چند سخت گیر لوگوں کی طرف سےکی گئی دین کی تشریح کی طرف نہ جائیں۔
اِس وقت دنیا میں ایک کروڑ 40 لاکھ مہاجرین ہیں۔لیکن اِس بات کو ہم میں سے کم ہی جانتے ہوں گے کہ اِن مہاجرین میں سے دو تہائی مسلمان ہیں۔
ارسلان کا یہ بھی کہنا ہے شاید میں وہ مسلمان ہوں جو ڈالر، یورو یا روپے بنانے کے چکر میں نہیں، اِس لیے کہ میں دنیا میں امن کے لیے کام کرنے کو زندگی کا نصب العین سمجھتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی وقت ہے کہ اِس دنیا کی بہتر ی کی خاطر کچھ لوگ اپنی زندگیاں وقف کردیں۔
وہ دنیا کو اسلام کے اعتدال پسند رُخ سے روشناس کرانے کے لیے اسلام کی صُلح جوئی کی تعلیمات کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں، جِس سے اب تک بہت سے لوگ نا آشنا ہیں۔