’مسلمانوں کا امریکہ‘ کی حالیہ قسط میں مسلمان خواتین کی بہبود کے کام سے وابستہ رضاکار تنظیم ’پیداد‘کو ریاستِ فلوریڈا کے ٹمپا شہر میں بے گھر لوگوں کے لیے خیراتی کام کرتے دکھایا گیا ہے۔
اِس قسط میں پیداد کے رضاکاروں کو بے گھر افراد کے ساتھ بات چیت کرتے دکھایا گیا، جِس میں بے گھر افراد خیراتی کام میں ملوث خواتین کی تنظیم کی تعریف کرتے ہیں۔
اِس تنظیم کی روح و رواں خدیجہ رویرا کہتی ہیں کہ لاطینی مسلم خواتین امریکہ میں انقلابی نوعیت کا کام سرانجام دے رہی ہیں۔
بے گھر لوگوں اور مسلمانوں کے بارے میں عمومی طور پر غلط تاثرات پائے جاتے ہیں:یعنی لوگ بے گھر افراد سے پرے بھاگتے ہیں، جب کہ مسلمانوں کو زیادہ تر منفی انداز سے دیکھا جاتا ہے۔
لیکن ٹمپا کے علاقے میں مقامی مسلم کمیونٹی نے جو رضاکارانہ کام ذمے لیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ اِس کی بدولت مسلمانوں کے بارے میں عام تاثر بہتر ہو رہا ہے۔
پیداد معاشرے کے نسبتاً کم خوش نصیب لوگوں کی بہبود کے لیے رضاکارانہ کام سرانجام دے رہی ہے۔
قسط میں معاشرے کے دو مختلف گروپوں کو نمایاں کیا گیا ہے، جِن کا آپس میں میل جول یہ رنگ لایا ہے کہ لوگ اِس کارِ خیر کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں اور ساتھ ہی یہ بات بھی بخوبی ظاہر ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں منفی تاثر کہ اُن سے ڈرنا چاہیئے دور بھاگنا چاہیئے غلط ثابت ہورہا ہے۔
بے گھر لوگوں نے بات چیت میں یہ کہا ہے کہ اِس دور میں جب اپنے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، اسلام کے نام پر سامنے آنے والی اِس تنظیم کے تعلیمی اداروں سے وابستہ رضاکار نوجوان، سردی، گرمی یا بارش کی پرواہ کیے بغیر ہم بے گھر نادار لوگوں تک پہنچتے ہیں اور کھانے پینے کی چیزیں، کپڑے اور ادویات تقسیم کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب تک وہ اسلام کے اِس کارِ خیر کے پہلو سےنا آشناتھے۔
