شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل پر ہفتے کے روز چھ بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیاہے۔ مبصرین کے مطابق اس تجربے سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی جو مئی میں شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے بعد سے پہلے ہی زیادہ تھی۔

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا نے ”Scud-Type“ میزائلوں کا تجربہ کیا ہے جب کہ اقوام متحدہ نے پیانگ یانگ کو اپنی قراردادوں کے ذریعے اس سے باز رہنے کے لیے کہا تھا۔تقریباً آٹھ گھنٹوں کے دوران فائر کیے جانے والے چھ میزائل چار سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد سمندر میں گرے۔

دوسری طرف جنوبی کوریا نے اس میزائل تجربے کو ایک اشتعال انگیز کا رروائی قرار دیتے ہوئے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ جاپان نے بھی اس تجربے پر شدید احتجاج اور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جاپان سمیت دوسرے پڑوسی ملکوں کی سلامتی کے خلاف ایک اشتعال انگیز کارروائی ہے۔

خیال رہے کہ جاپان ان چھ ملکی مذاکرات کا حصہ ہے جس کا مقصد شمالی کوریا کو اس کا جوہری پروگرام ترک کرنے پر آمادہ کرکرے بدلے میں بھرپور سفارتی شناخت اور امداد دلوانا ہے۔ یہ مذاکرات فی الحال معطل ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ہفتے کے روز کیے جانے والے میزائل تجربات کے عسکری سے زیادہ سیاسی محرکات تھے اور ان کا مقصد امریکہ کے یوم آزادی کے موقع پر اسے نافرمانی کا پیغام دینا تھا۔

مئی میں شمالی کوریا کی طرف سے جوہری تجربے کے بعد اقوام متحدہ نے اس پر پابندیاں عائد کردیں تھیں۔ اس ضمن میں رابطہ کار کے طور پر کام کرنے والا ایک امریکی نمائندہ اس ہفتے بیجنگ میں تھا تاکہ شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں سخت کرنے میں چین کی حمایت حاصل کی جاسکے۔