مرکز میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے کہا کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کو کسی صورت پارلیمان میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے اور اگر حکومت اسے پارلیمان سے منظور کرواتی ہے تو ان کے بقول یہ پارلیمنٹ،پاکستان اور خود حکومت کے لیے بدنامی کا باعث ہوگا۔

ہفتے کو صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ جس طرح پارلیمانی روایات کی پرواہ کیے بغیر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کی شقوں کو منظور کیا ہے وہ افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرپارلیمان سے اسے منظور کروایا جاتا ہے تو یہ بدعنوانی کو جائز قرار دینے اور چند لوگوں کو نوازنے کے مترادف ہوگا۔

یاد رہے کہ جمعے کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کے مسودے کی شقوں کو منظور کیا تھا جب کہ مسلم لیگ ’’ن‘‘ اور ’’ق‘‘ نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

حکومتی ارکان کا موقف ہے کہ اس آرڈیننس سے صرف پاکستان پیپلز پارٹی ہی فیضاب نہیں ہوئی بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے لگ بھگ 3000 رہنما اور کارکنان اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آرڈیننس کو پارلیمان سے ضرورمنظور کروایا جائے گا۔

واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 2007 میں قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی NRO جاری کیا تھا جس کے تحت 1986 سے لے کر 1999 تک سیاسی جماعتوں کے قائدین اور ارکان پر بدعنوانی خصوصاً سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے مقدمات ختم کردیے گئے تھے جس سے دوسرے سیاسی لوگوں کے علاوہ صدر آصف علی زرداری بھی مستفید ہوچکے ہیں۔