امریکی اخبا ر نیویارک ٹائمزنے خبردی ہے کہ صدر بارک اوباما کے مشیر ایک ایسی نئی افغان حکمت عملی پر متفق دکھائی دیتے ہیں جس کا مقصد افغانستان میںآ بادی کے لحاظ سے دس بڑے شہروں میں لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
اس مجوزہ حکمت عملی کے تحت دور دراز علاقوں میں بغیر پائلٹ کے جہازوں کے ذریعے عسکریت پسندوں کی نگرانی اور ان کے خلاف خصوصی فوج کی کارروائیوں کے ذریعے دباؤ کو برقرار رکھتے ہوئے امریکی فوجیوں کی اکثریت کو شہری علاقوں میں تعینات کر کے وہاں لوگوں ،اہم شاہراہوں اور زراعت سے متعلق تنصیبات کی حفاظت پر توجہ دی جائے گی۔ جن شہروں کی حفاظت پر توجہ دی جائے گی ان میں کابل، قندھار، مزار شریف، ہرات اور جلال آباد شامل ہیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے ابھی اس حکمت عملی کی منظوری نہیں دی ہے لیکن اس حوالے سے جاری بحث میں اب اس بات کا جائزہ لیا جار رہا ہے کہ جن شہروں کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں کتنی افواج درکار ہوں گی۔
نیویارک ٹائمز نے منگل کو یہ خبر بھی شائع کی ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی کا بھائی احمد ولی کرزئی پچھلے آٹھ سالوں سے امریکی سی آئی اے سے تنخواہ وصول کررہا ہے اور اس کی ذمہ داریوں میں سی آئی اے کے زیر کنٹرول افغانوں کے ایک نیم فوجی دستے میں لوگوں کی بھرتی، سی آئی اے کے ایجنٹوں کے لیے محفوظ رہائش گاہوں کی فراہمی اور طالبان کمانڈروں کے ساتھ ان کی ملاقاتیں کروانا شامل ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ مبینہ طور پر ولی کرزئی کا شمارافغانستان میں منشیات کے بڑے بیوپاریوں میں بھی ہوتا ہے۔اس نے قندھار کے مضافات میں طالبان کے مفرور سربراہ ملا عمر کے گھر کو بھی سی آئی اے کے عہدے داروں کو کرائے پر دے رکھا ہے جسے وہ مقامی نیم فوجی دستوں کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں کے لیے استعما ل کرتے ہیں۔
سی آئی کے عہدے داروں نے ان خبروں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ افغان صدر کے بھائی نے بھی ا س امریکی ادارے سے تنخواہ لینے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ تاہم ولی کرزئی نے امریکی خفیہ ایجنٹوں کو بلامعاوضہ معلومات فراہم کرنے کا اعتراف کیا ہے ۔

