امریکی صدر براک اوباما نے ہفتے کے روز ٹوکیو میں ایک اہم تقریر کرتے ہوئے چین کے ساتھ تعاون اور ایشیا کے ساتھ امریکہ کے مزید ربط و اختلاط کا وعدہ کیا ہے۔
صدر اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ چین کے دائرہ اثر کو محدود کرنا نہیں چاہتا اور وہ عالمی سٹیج پر اہم کردار ادا کرنے کے لیے اُس کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ اُن اقدار کے لیے آواز بلند کرنے سے کبھی نہیں ہچکچائے گا جو اُسے عزیز ہیں۔ اور انہوں نے کہا کہ شراکت داری کے جذبے کے ساتھ انسانی حقوق کے بارے میں کوئى غوروخوض ہوسکتا ہے۔
صدر اوباما نے، جو منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد پہلی بار اس خطّے کے دورے کے پر ہیں، انڈونیشیا میں اپنے بچپن کے زمانے کا ذکر کرتے ہوئے ایشیا کے ساتھ امریکہ کے رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ ایشیا کی سلامتی کے لیے اپنی ذمّے داریوں سے کبھی منھ نہیں موڑ سکتا۔
صدر نے وسیع مسائل پر تقریر کرتے ہوئے جوہری اسلحہ کے پھیلاؤ، آب و ہوا میں تبدیلیوں اور عالمی اقتصادی بحران کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں دوبارہ بین الاقوامی مذاکرات میں شامل ہوجائےاور انہوں نے کہا کہ امریکہ دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا۔

