11.11.09
صدراوباما کا آئندہ دورہ چین اوردونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات
مسٹر اوباما کے ناقدین یہی کہتے ہیں کہ ان کے چین کے دورے میں ان کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ کیا چین اور امریکہ بہتر تعلقات قائم کر سکتےہیں ۔۔۔
اس سال توقع ہے کہ چین کی معیشت میں اضافے کی شرح آٹھ فیصد سے زیادہ ہوگی اور عالمی مالیاتی بحران کے اس زمانے میں بھی اس کی معیشت مجموعی طور پر مضبوط رہی۔
امریکہ کے صدر باراک اوباما جب اس مہینے کے آخر میں چین پہنچیں گے تو وہ سب سے پہلے سب سے بڑے تجارتی شہر شنگھائی جائیں گے ۔امریکہ اور چین کے اقتصادی بندھن دونوں ملکوں کے مجموعی تعلقات میں روز بروز زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں بلکہ بعض لوگوں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ امریکہ جان بوجھ کر چین کے ساتھ اختلافی امور نہیں اٹھاتا تا کہ اس کے لیڈر نا خوش نہ ہوں۔
امریکہ کے شاپنگ مال چین میں بنی ہوئی اشیاء سے بھرے پڑے ہیں۔ ادھر چین کی فیکٹریاں جہاں یہ مال تیار ہوتا ہے پوری طرح مصروف ہیں۔ ظاہر ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ عالمی مالیاتی بحران کے با وجود امریکہ چین کا سب سے زیادہ قابلِ اعتماد گاہک ہے اور بیجنگ امریکہ کے قرضوں کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
واشنگٹن میں قائم پیٹرسن انسٹیٹیوٹ (Peterson Institute) کےنکلوس
لارڈی (Nicholas Lardy) کہتے ہیں کہ چین نے اندھا دھند قرضوں اور بہت زیادہ خطرے والے مالیاتی سودوں سے پرہیز کیا۔ اس طرح اسے عالمی اقتصادی انحطاط کے اثرات سے محفوظ رہنے میں مدد ملی۔ اس کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ امریکہ کے ساتھ اس کا تعلق ڈرامائی طور پر تبدیل ہو گیا۔ مسٹر لارڈی کہتے ہیں کہ ’’اب تو چینی ہمیں لیکچر دینے لگے ہیں کہ ہمیں اپنا بجٹ متوازن رکھنا چاہیئے ڈالر کی قدر قائم رکھنی چاہیئے اور افراطِ زر سے بچنا چاہیئے۔ گویا ایک طرح سے پانسہ پلٹ چکا ہے‘‘ ۔
اس سال توقع ہے کہ چین کی معیشت میں اضافے کی شرح آٹھ فیصد سے زیادہ ہوگی اور عالمی مالیاتی بحران کے اس زمانے میں بھی اس کی معیشت مجموعی طور پر مضبوط رہی۔ یوں بین الاقوامی سطح پرچین کی معیشت میں اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ اب عالمی مسائل میں چین کا رول اہم ہوتا جا رہا ہے چاہے یہ عالمی معیشت کو بحال کرنے کا معاملہ ہو یا آب و ہوا میں تبدیلی کا مسئلہ ہو۔
چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے اوباما انتظامیہ بہت محتاط رہی ہے کہ کوئی ایسا اقدام نہ کرے جس سے چین ناراض ہو جائے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ حال ہی میں جب دلائی لامہ امریکہ آئے تو صدر اوباما نے ان سے اپنی ملاقات چین کے دورے سے واپسی تک کے لیے ملتوی کر دی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پچھلی انتظامیہ کے برخلاف امریکہ کی موجودہ انتظامیہ نے چین کی کرنسی کی قدر کے بارے میں سخت باتیں کہنے سے پرہیز کیا ہے۔
چین کی کرنسی کی قدر کا مسئلہ ایک عرصے سے وجہ نزاع رہا ہے ۔ چین پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ اس نے اپنی کرنسی کی قدر جان بوجھ کر کم رکھی ہے تا کہ اس کی برآمدات سستی پڑیں۔
انتخابی مہم کے دوران مسٹر اوباما نے چین پر اپنی کرنسی کی قیمت میں مصنوعی طور پر رد و بدل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد محکمۂ خزانہ نے سخت الزامات لگانے سے پرہیز کیا ہے اور چین کی کرنسی میں لچک کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کرنے پر قناعت کی ہے۔
لیکن واشنگٹن کے سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (Center for Strategic and International Studies) کے نکلوس سیچینے (Nicholas Szechenyi) کہتے ہیں کہ واشنگٹن کا نرم رویہ ہر معاملے میں نرم نہیں ہے ’’لگتا تو بالکل ایسا ہی ہے کہ انتظامیہ انسانی حقوق کے مسائل کو کچھ کم توجہ دے رہی ہے اور اقتصادی امور اور آب و ہوا میں تبدیلی جیسے مسائل پر اس کی توجہ زیادہ ہے۔ لیکن دوسری طرف تجارتی محاذ پر ٹائروں کے معاملے میں اور شاید فولاد کے معاملے میں انتظامیہ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ تو میرے خیال میں یہ توازن کا معاملہ ہے اوراس بات کا کہ آپ چینیوں سے کس معاملے میں بات چیت کرنا چاہتے ہیں‘‘۔
ستمبرمیں واشنگٹن نے چین سے درآمد کیے جانے والے ٹائروں پر ڈیوٹی لگا دی اور ابھی پچھلے ہفتے ہی چین سے درآمد ہونے والے سٹیل کے پائپوں پر نئی ڈیوٹی عائد کر دی گئی۔ چین نے جوابی کارروائی کی اور اس نے بعض اشیاء پرڈیوٹی لگا دی اورامریکہ سے درآمد کیے جانے والی مرغیوں اور آٹو پارٹس کی چھان بین شروع کردی ہے۔ بعض لوگوں نے انتباہ کیا ہے کہ ان اقدامات سے تجارتی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ بعض دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے معمول کے تجارتی تعلقات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ دونوں صورتوں میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سے ملک کو دوسرے ملک کی زیادہ ضرورت ہے۔ وڈرو ولسن انٹرنیشنل سینٹر کے ڈگلس سپیلمین (Douglas Spelman) کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ ان کے الفاظ ہیں کہ ’’سچی بات یہ ہے کہ دس برس پہلے تو میں یہی کہتا کہ چین کو ہماری ضرورت زیادہ ہے اور ہمیں چین کی اتنی ضرورت نہیں ہے۔ اب میرا خیال یہ ہے کہ یہ ایک ایسا تعلق ہے جس میں صحیح معنوں میں دونوں ملک ایک دوسرے پر انحصار کرتےہیں ۔ اقتصادی شعبے میں تو یقیناً یہ صحیح ہے‘‘۔
پھر بھی مسٹر اوباما کے ناقدین یہی کہتے ہیں کہ ان کے چین کے دورے میں ان کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ کیا چین اور امریکہ بہتر تعلقات قائم کر سکتےہیں اور کیا بعض معاملات میں امریکہ کے چشم پوشی سے کام لینے سے بعض دوسرے امور میں ٹھوس نتائج بر آمد ہوں گے۔