امریکہ صدر باراک اوباما نے پیر کے روز اپنے چین کے دورے کے سلسلے میں شنگھائی میں مقامی سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کی اور ایک ٹاون ہال اجلاس سے بھی خطاب کیا جس میں چینی طالب علموں نے شرکت کی۔  اُنھوں نے حاضرین اور ویب سائٹس کے ذریعے پوچھے گئے سوالات کے جوابات بھی دیے۔ چینی حکومت نے ٹاؤن ہال میٹنگ کا انتہائی محتاط انداز میں انعقاد کیا اور میڈیا پر اس کی کوریج کو محدود رکھتے ہوئے اس کی کارروائی کو صرف مقامی ٹی وی سٹیشن پر دکھانے کی اجازت دی۔

اپنے ابتدائی کلمات میں صدر اوباما نے چین میں تعلیم حاصل کرنے والے امریکی طالب علموں کی تعداد بڑھا کر ایک لاکھ کرنے کا اعلان کیا۔

سوال وجواب کے سیشن کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کا معاملہ دنیا کو درپیش اہم ترین چیلنج ہے اور دنیا کی نظریں امریکہ اور چین پر لگی ہوئی ہیں کہ یہ دونوں ملک اس مسئلے پر کیا پالیسی اپناتے ہیں۔  اُنھوں نے کہا کہ ہر ایک کو بشمول چین کے اظہار رائے، مذہبی آزادی اور معلومات تک آزادانہ رسائی کا حق ملنا چاہیئے۔

امریکی صدر منگل کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں صدر ہو جن تاوء سے ملاقات کریں گے جس میں صدر اوباما کا کہنا ہے کہ دوسرے امور کے علاوہ انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے معاملات بھی چینی قیادت سے بات چیت میں زیر بحث آئیں گے۔  چین امریکہ کو قرض دینے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور اس وقت امریکہ کے ذمے چین کو واجب الادا قرض کی مالییت ایک کھرب یا سو ارب ڈالرز ہے۔