منگل کے روز صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ ڈیموکریٹک اور ری پبلیکن ارکان صحت کی دیکھ بھال کے اس اصلاحی بل پر متفق ہوگئے ہیں جس کے تحت امریکیوں کو انشورنس کے بے مثال تحفظ حاصل ہوں گے۔

صدر اوباما اور کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان اس بل کی منظوری چاہتے ہیں جس کے تحت لوگوں کے پاس پرائیویٹ ہیلتھ انشورنس کے ساتھ ساتھ صحت کی سرکاری انشورنس کا انتخاب موجود ہوگا۔ اور اس بل کے تحت تمام امریکیوں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ صحت کی انشورنس حاصل کریں اور آجروں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے کارکنوں کو ہیلتھ انشورنس فراہم کریں۔

ان تمام اقدامات پر لگ بھگ ایک کھرب ڈالر خرچ ہوں گے۔ صدر کا کہنا ہے کہ یہ رقم وفاقی بجٹ میں کسی بھی خسارے کے اضافے کے بغیر حاصل کی جاسکتی ہے۔

ری پبلیکن ارکان  صحت کے اس نئے نظام کے لیے رقم کی فراہمی کی غرض سے زیادہ آمدنی پر لگائے گئے مجوزہ ٹیکس کی مخالفت کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ گویا حکومت کی جانب سے صحت کی دیکھ بھال کا انتظام خود سنبھالنے کے مترادف ہے۔جس پراس سے کہیں زیادہ اخراجات ہوں گے جتنا کہ ڈیموکریٹ ارکان اور صدر کا اندازہ ہے۔
صدر اوباما چاہتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ اگست میں قانون ساز اپنی تعطیلات پر جائیں، کانگریس اس منصوبے کی منظوری دے دے۔

سینٹ کے ری پبلیکن راہنما مچ مک کونیل نے اوباما کےاس خیال پر منگل کے روز یہ کہتے ہوئے نکتہ چینی کی کہ ہیلتھ کیئر کی اصلاحات انتہائی اہم معاملہ ہے اور کانگریس کو اس سلسلے میں اتنی عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے کہ کوئی غلط فیصلہ سامنے آجائے۔

مسٹر مک کونیل کہا کہ اس بل کے لیے آخری تاریخ طے کردینے سے اسی طرح کی غلطی کا اعادہ ہوگا جو اس وقت ہوئیں تھیں جب مسٹر اوباما نے اس سال کے شروع میں کانگریس سے سات کھرب 87 ارب ڈالر کا اقتصادی امدادی منصوبے کی منظوری پر زور دیا تھا۔

ایوان میں ڈیموکریٹ اکثریت کے دوسرے اہم ترین راہنما سٹینی ہویئر نے منگل کے روز کہا کہ ڈیموکریٹ اراکین کانگریس کو صحت کے اس اصلاحی بل پر ابھی کسی اتفاق رائے تک پہنچنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے اخراجات اور اس کے لیے رقم کی فراہمی کے بارے میں ابھی اختلافات باقی ہیں۔