امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ایران کو نتائج بھگتنا پڑیں گے اگر وہ یہ ثابت نہیں کر پاتا کہ اس کا جوہری پروگرام شفاف اور پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
انھوں نے منگل کوبیجنگ میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ امریکہ اور چین اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو بین الاقوامی برادری کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے پیر کو جاری کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایران ا ب بھی اپنے جوہری پروگرام سے متعلق تنصیبات اور معلومات کو چھپا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی طرف سے قوم کے علاقے میں یورنیم افزودہ کرنے کے پلانٹ کے بارے میں عالمی ادارے کو آگاہ کرنے میں تاخیر سے ان سوالات نے جنم لیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات چھپا رہا ہے۔
آئی اے ای اے کی معائنہ کاروں نے گذشتہ ماہ قوم کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ یہاں پرایرانی جوہری پلانٹ کی تعمیر آخری مراحل میں ہے جب کہ یورنیم افزودہ کرنے والے آلات سنٹری فیوجز کی تنصیب کا کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ خیال رہے کہ افزودہ یورنیم کو سویلین مقاصد کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جب کہ عمدہ ترین افزودہ یورنیم جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہوتی ہے۔
آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ اس کے معائنہ کاروں کے اکٹھا کیے گئے شواہد کے مطابق ایران نے قوم میں اس پلانٹ کی تعمیر 2002 میں شروع کی جب کہ ایرانی حکام کے مطابق تعمیری کام 2007 میں شروع کیا گیا۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ دونوں صورتوں میں ستمبر تک اس پلانٹ کو پوشیدہ رکھنا بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھانے کی ایرانی پالیسی کے برعکس ہے۔
یورنیم کی افزودگی کے پروگرام کو ترک نا کرنے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پہلے ہی ایران پر تین طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کا مقصد ہتھیار بنانا نہیں بلکہ بجلی پیدا کرنا ہے۔

