امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ عراق میں حاصل ہونے والی ترقی پربہت  خوش ہیں،  لیکن اُنھوں نے خبردار کیا کہ فرقہ وارانہ شدت پسندی کرنے والوں کے باعث  بہت مشکل دِن پیش   آئیں گے۔
 
صدر اوباما  بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیرِ اعظم نوری الماکی کے ساتھ مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

امریکی صدر نے کہا کہ  ملاقات میں قومی یگانگت کو فروغ دینےکے بارے میں عراقی کوششوں ، اور عراق کی مختلف برادریوں کے درمیان تیل سے حاصل ہونے والی کمائی کو مساوی طور پر تقسیم کرنے کے کام پر بات چیت ہوئی۔

یہ بات چیت عراقی  شہروں سے امریکی لڑاکا افواج کے نکل جانے کے ہفتوں بعد  ہوئی۔ جون کی 30تاریخ سے شہری مراکز میں عراقی افوان نے سلامتی کی ذمے داریاں سنبھال لی ہیں۔

مسٹر اوباما کا کہنا تھا کہ عبوری  دور اِس بات کا بعین ثبوت ہے کہ   امریکہ بااختیار عراق کے حصول کے اپنے عزم پر قائم ہے، جس میں 2011ء کے اواخر تک تمام امریکی افواج کا انخلا  بھی شامل ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ عراق سے شدت پسندی ختم ہو رہی ہے۔

 صدر مالکی نے کہا کہ  اُنھوں نے اور مسٹر اوباما سے  وسیع  میدان میں اشتراکِ عمل کے امکانات پر بات کی۔ اُنھوں نے کہا کہ اب عراقی فوج اچھی طرح سے اِس قابل بن چکی ہے کہ   امریکہ کے ساتھ ساجھے داری  کا دم بھر سکے۔ 

مسٹر اوباما کا کہنا تھا کہ  1991ء کی خلیج  جنگ کے بعد اقوإمِ متحدہ کی طرف سے عراق پر لگنے والی پابندیاں اُٹھانے کے حق میں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ عراق کے ساتھ زیادتی ہوگی کہ  ایک  معطل کیے گئے آمر کے گناہوں کی سزا  عراق کو ملتی رہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ صدام حسین کی طرف سے 1990ء میں کویت فتح کرنے کا خمیازہ بھگتنے کے لیےپہلے عراق  کویت کو تاوانِ جنگ ادا کرے۔

اِس سے پیشتر بدھ کے روز مسٹر مالکی نے نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون سے ملاقات کی۔پابندیاں ہٹانے کے لیے   اُنھوں نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے ساتھ بھی مذاکرات کیے۔