امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے ایک سال بعد براک اوباما کو ملک میں مشکل سیاسی حالات کا سامنا ہے۔ بائیں بازو کے ووٹروںمیں ناراضگی بڑھ رہی ہےاورامریکی کانگریس میں ان کے ساتھی ڈیموکریٹس کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ کے 44 صدر کے لیے یہ ہفتہ خاص طور سے مشکل تھا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح 10 اعشاریہ دو فیصد تک پہنچ گئی۔ 1983 کے بعد یہ شرح سب سے زیادہ ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ تازہ ترین اعداد وشمارافسوسناک ہیں لیکن انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ امریکی معیشت کا رُخ موڑنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے ’’مجھے پورا اعتماد ہے کہ ہماری معیشت بحال ہو جائے گی۔ مجھے اعتماد ہے کہ ہم صحیح سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک امریکہ ایک بار پھر خوشحال نہ ہو جائے، میں چین سے نہیں بیٹھوں گا‘‘۔
اگرچہ معیشت کے دوسرے شعبوں میں بہتری کے آثار نظر آنے لگے ہیں، لیکن شدید بے روزگاری سے صدر کو اورامریکی کانگریس میں ان کے حامیوں کو اگلے سال کےدرمیانی مدت کے انتخابات میں نقصان پہنچ سکتا ہے۔
MSNBC کے سیاسی تجزیہ کار رچرڈ ولف (Richard Wolffe ) کہتے ہیں کہ بے روزگاری بہت بڑا مسئلہ ہے اور یہ امکانات خاصے قوی ہیں کہ اس میں اوراضافہ ہو گا۔ اس سے انتظامیہ اورتمام سیاست دانوں کے لیے سنگین سیاسی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس کےعلاوہ بعض ڈیموکریٹس کو نیو جرسی اورورجینیا میں گورنر کے انتخاب میں ریپبلیکنز کی جیت پر بھی تشویش ہے۔ گذشتہ نومبر میں براک اوباما نے صدارتی انتخاب آزاد ووٹروں کی مدد سے جیتا تھا۔ لیکن ورجینیا اورنیوجرسی کے منگل کے انتخا ب میں آزاد ووٹروں نے بڑی حد تک ڈیموکریٹک امید واروں کو چھوڑ کرریپبلیکنز کو ووٹ دیا۔ اگلے سال کے کانگریشنل انتخاب کی مہم کے لیے یہ خطرناک علامت ہے۔
اخبار نیویارک ڈیلی نیوز کے واشنگٹن میں بیوروچیف ٹام ڈیفرینک (Tom DeFrank)کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اب صدراوباما کی آنکھیں کُھل جانی چاہئیں۔ وہائٹ ہاؤس نے بڑے زور شور سے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ اس انتخاب کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے جب کہ اس سے ووٹروں کی مایوسی اور نا خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔
ریپبلیکنز کے جوش وخروش سے صدر کی داخلی ترجیح یعنی امریکہ کے علاج و معالجے کے نظام میں اصلاح کی کوششوں میں دشواریاں پیدا ہو رہی ہیں۔
اس سال کے شروع میں علاج معالجے کے نظام کے بارے میں پور ے ملک میں ٹاؤن ہال ملاقاتوں میں ناراضگی کی جو تحریک شروع ہوئی تھی ریپبلیکنزان سے فائدہ اٹھانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سال ایسے ہزاروں کارکن واشنگٹن واپس آئے۔ وہ علاج معالجے کے اس نظام کو ختم کرنے کا عزم لے کر آئے تھےکہ وہائٹ ہاؤس اور کانگریس میں ڈیموکریٹک ارکان نے جو بِل تیار کیا ہے اسے منظور نہیں ہونے دیں گے ۔
اس اجتماع میں ہالی وڈ کے پرانے اداکارجان ووائٹ (John Voight) بھی موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہم سے اپنی مرضی کا فیصلہ کرنے کا حق واپس لے لیا جائے۔ صدراوباما تو اپنے علاج معالجے کے نظام کو منوانے پر تلے ہوئے ہیں تا کہ امریکہ کو سوشلسٹ ملک بنا دیں۔
صدر کے ناقدین کا لب و لہجہ روزبروز سخت اور جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگلے سال درمیانی مدت کے انتخاب کی انتہائی سخت مہم کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ MSNBC کے تجزیہ کار ولف رچرڈ کہتے ہیں کہ’’ووٹرز کا موڈ انتہائی خراب ہے۔ وہ موجودہ ارکان کو نکال باہرکرنا چاہتے ہیں اور یہ بات ڈیموکریٹس پرصادق آتی ہےاورریپبلیکنز پر بھی‘‘۔
تاریخی طور پر ہمیشہ یہ ہوتا رہا ہے کہ جو پارٹی وہائٹ ہاؤس کو کنٹرول کرتی ہے وہ نئے صدر کے زمانے میں ہونے والے پہلے درمیانی مدت کے انتخاب میں کچھ نشستیں ضرور کھو دیتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار سٹوریٹ روتھنبرگ (Stuart Rothenberg)کہتے ہیں کہ ڈیموکریٹس کو اگلے سال نشتوں کے نقصان کومحدود کرنے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی ’’ڈیموکریٹس کو اپنے ڈیموکریٹک حلقوں کی نشستیں برقرار رکھنے کے لیے اپنے ڈیموکریٹک ووٹروں کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کا مشکل فریضہ انجام دینا ہو گا۔ ورجینیا اور نیو جرسی دونوں ریاستوں میں جب ہم نے ووٹ ڈال کر نکلنے والوں کا سروے کیا تو پتہ چلا کہ ہمارے نوجوان ووٹروں کی تعداد میں ڈرامائی کمی آئی ہے‘‘۔
نیو جرسی اورورجینیا میں ریپبلیکنز کی کامیابی سے صدر اور کانگریس کے ڈیموکریٹک ارکان کی علاج معالجے کے نظام میں اصلاح اورآب و ہوا میں تبدیلی کے قانون بنانے کی کوششیں بھی متاثر ہوں گی۔
اگلے سال کے دوران ریپبلیکنز کو بھی اپنی پارٹی کو متحد کرنے کا چیلنج درپیش ہو گا۔ اگرچہ ڈیموکریٹس کے ہیلتھ کیئر کے بل کی مخالفت قدامت پسند عام لوگوں کی طرف سے ہو رہی ہے لیکن گذشتہ ہفتے نیو جرسی اور ورجینیا میں جیتنے والے ریپبلیکن امید واروں نے خود کو سیاسی اعتدال پسند کے طور پر پیش کیا تھا تا کہ وہ آزاد ووٹروں اور روایتی ریپبلیکن ووٹروں دونوں کی حمایت حاصل کر سکیں۔