ایران سے ملحقہ پاکستان کے سرحدی علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سرحد بند ہونے سے وہ مشکلات کا شکار ہیں اور ان علاقوں میں خوراک اور دوسری ضروری چیزوں کی شدید قلت ہوگئی ہے۔
سرحدی شہر تفتان کے ناظم جمیل ہمدانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایران کے ساتھ واقع سات سو کلومیٹرطویل سرحدی پٹی پر تین لاکھ سے زائد خاندان رہائش پذیر ہیں جن کی گزر بسر ان کے بقول ایرانی علاقوں سے آنے والی اشیائے خورونوش اور دوطرفہ تجارت پر منحصر ہے۔ مگر سرحد کی بندش سے نا صرف عام لوگ بلکہ تاجر اور مزدور پیشہ افراد بھی مثاتر ہورہے ہیں۔
انھوں نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرحد کو فوری طور پر کھولنے کے لیے تہران سے مذاکرات کیے جائیں۔ جمیل ہمدانی نے کہا کہ اگر یہ سرحد اسی طرح بند رہی تو لوگ فاقوں سے تنگ آکر نقل مکانی کرجائیں گے اور ان کے بقول یہاں جرائم میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔
واضح رہے کہ ایران نے گزشتہ ماہ کی 18 تاریخ کو مشرقی صوبے سیستان اور بلوچستان میں ہونے والے ایک خودکش دھماکے کے بعد اپنی سرحد بند کردی تھی۔ اس واقعے میں پاسداران انقلاب کے پانچ اعلیٰ کمانڈروں سمیت کم ازکم 42افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کی ذمہ داری ایک کالعدم سنی عسکریت پسند تنظیم جنداللہ نے قبول کی تھی۔
ایرانی عہدیداروں نے الزام عائد کیا تھا کہ خودکش حملے میں امریکہ، برطانیہ اور پاکستان ملوث ہیں تاہم تینوں ممالک نے ایرانی الزامات کو سختی سے رد کردیا ہے۔

